.

عوام کی بڑی تعداد ایران کے مستقبل کے حوالے سے اعتماد کھو چکی ہے : روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ اُس کے ارکان ملک کو درپیش بحرانات کے حوالے سے صدر حسن روحانی کے جوابات سے مطمئن نہیں ہو سکے۔ ان بحرانات میں مہنگائی، بے روزگاری، غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں اضافہ، مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ، کساد بازاری اور اسمگلنگ شامل ہے۔ لہذا اب یہ استفسارات فیصلے کے لیے عدلیہ تک پہنچائے جائیں گے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے تمام بحرانات کو سازش اور امریکی پابندیوں اور مواقف کے ساتھ جوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دسمبر اور رواں برس جنوری میں ہونے والے عوامی مظاہروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات پر ہمّت بندھائی کہ وہ جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو جائیں۔

منگل کے روز پارلیمنٹ سے خطاب میں روحانی نے اقرار کیا کہ ایرانی عوام کی جانب سے "اسلامی جمہوریہ" پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں کے بعد بہت سے لوگ اسلامی جمہوریہ کے مستقبل کے حوالے سے اعتماد کھو چکے ہیں۔ تاہم ساتھ ہی ایرانی صدر نے زور دیا کہ تہران وہائٹ ہاؤس میں بیٹھے ایران دشمن ذمّے داران کو ہزیمت سے دوچار کرے گا اور ملک کی اقتصادی مشکلات پر غلبہ حاصل کر لے گا۔

روحانی نے اقتصادی بحران کا الزام "نظریہِ سازش" پر ڈالتے ہوئے سوال کیا کہ "اچانک ہر چیز کس طرح تبدیل ہو گئی جب کہ ملک تمام شعبوں میں برسوں سے آگے بڑھ رہا تھا؟"۔ انہوں نے باور کرایا کہ "ہم دشمنوں کو اور امریکی ذمّے داران کو ایران کے خلاف سازشوں پر عمل درامد نہیں کرنے دیں گے"۔

ایرانی صدر نے حکومت کے اقتصادی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "بے روزگاری اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے حکومتی کارکردگی امتیازی رہی ہے۔ حکومت ملک میں بے روزگاری کی شرح کم کر کے 12 فی صد تک لے آئی ہے اور اقتصادی نمو کی شرح کو 4 فی صد تک لے جانے میں کامیاب ہو گئی ہے جب کہ یہ منفی 7 فی صد تک چلی گئی تھی"۔

جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ "اس سمجھوتے نے اقتصادی کُشادگی کا دروازہ کھولا اور بہت سے اقتصادی مشکلات کو حل کیا"۔

یاد رہے کہ روحانی کو یہ پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں اس مقصد سے بُلا گیا تھا کہ وہ ملک کو درپیش اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت کی کوششوں کے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جوابات دیں۔ امریکا کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ اور اقتصادی مسائل کے بڑھ جانے کے بعد روحانی کو اپنے قدامت پسند مسابقین کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس اپریل کے بعد سے ایرانی ریال کی قدر میں نصف سے زیادہ کی کمی آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ اقتصادی نمو کی شرح کمزور پڑ گئی ہے اور بے روز گاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔