.

جنگ کا امکان نہیں ،مگر مسلح افواج کو اپنی صلاحیتیں بڑھاتے رہنا چاہیے : ایرانی سپریم لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ جنگ کا تو امکان نہیں لیکن مسلح افواج کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھاتے رہنا چاہیے۔

ایرانی سپریم لیڈر کی سرکاری ویب سائٹ پر اتوار کو پوسٹ کیے گئے ایک بیان کے مطابق انھوں نے فضائیہ کے افسروں سے خطاب میں یہ بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ سیاسی جائزوں کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ( فی الوقت) جنگ کا امکان نہیں لیکن مسلح افواج کو چوکس اور چوکنا رہنا چاہیے، انھیں پنی فوجی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے اور فوجی سازوسامان حاصل کرنا چاہیے‘‘۔

جنگ کے لیے مستعد رہیں

فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کی قیادت سے ملاقات میں خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی فوج کے زیر انتظام "خاتم الانبیاء" مرکز یقینا ایران کے دشمنوں کے خلاف مقابلے میں پیش پیش ہو گا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی رہبرِ اعلی کے نزدیک سیاسی حساب کے لحاظ سے اس وقت کسی عسکری جنگ کا امکان نہیں پایا جاتا تاہم ساتھ ہی خامنہ ای نے کہا کہ مسلح افواج پر لازم ہے کہ وہ ہوشیار اور مُستعد رہیں۔

یاد رہے کہ رہبرِ اعلی اور مسلح افواج کے جنرل کمانڈر علی خامنہ ای کی جانب سے ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کی قیادت بالخصوص فضائیہ میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اُس ممکنہ فضائی حملے کا سامنا کرنے کی تیاریوں کے سلسلے میں ہے جو ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنے کے مقصد سے کیا جا سکتا ہے۔

خامنہ ای نے 19 اگست کو ایرانی فضائیہ کے سربراہ جنرل حسن شاہ صفی کو ہٹا کر اُن کی جگہ جنرل عزیز ناصر زادہ کو مقرّر کیا تھا۔ ناصر زادہ 1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران بطور لڑاکا پائلٹ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

اسی طرح 20 اگست کو خامنہ ای نے سابق وزیر دفاع بریگڈیئر جنرل حسین دہقان کو جو پاسداران انقلاب کے سینئر رہ نما ہیں، دفاعی صنعت کے امور کے سلسلے میں مسلح افواج کی جنرل کمان کا مشیر مقرّر کر دیا۔

گزشتہ برس علی خامنہ ای نے عسکری قیادت کے پانچ سینئر اہل کاروں کو برطرف کر کے اُن کی جگہ اپنی مقرّب شخصیات کو فائز کیا تھا۔ رہبرِ اعلی نے 29 مئی 2017ء کو بریگیڈیئر جنرل فرزاد اسماعیلی کو ہٹا کر بریگیڈیئر جنرل علی رضا صباحی فرد کو ایرانی فوج کے فضائی دفاع کے ہیڈکوارٹر "خاتم الانبیاء" کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔ مذکورہ ہیڈاکوارٹر ایرانی مسلح افواج کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کا نگراں ہے۔

نومبر 2017ء میں ایرانی رہبرِ اعلی نے ایک فرمان جاری کرتے ہوئے فوج کے نائب سربراہ احمد رضا پوردستان کو ہٹا کر اُن کی جگہ بریگیڈیئر جنرل محمد حسین دادرس کو مقرّر کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایڈمرل حبیب اللہ سیاری کو بحریہ کی قیادت سے منتقل کر کے ایرانی فوج کا جنرل کوآرڈی نیٹر بنا دیا۔

ایرانی فوج کے 4 شعبے ہیں : فضائیہ، بحریہ، زمینی فوج اور شہری دفاع.

خامنہ ای نے جنرل عطاء اللہ صالحی کو 12 برس تک ایرانی فوج کی سربراہی کے بعد ڈپٹی چیف آف اسٹاف کمیٹی منصب پر مقرر کر دیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے 48 سینئر عسکری اہل کاروں کی جانب سے پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران پر فوجی حملے کی صورت میں فضائی دفاعی نظام کو 15 سنگین نوعیت کے خطرات درپیش ہو سکتے ہیں۔