ایران میں اصلاحات نہ ہوئیں تو حکمراں نظام زمین بوس ہو جائے گا : خاتمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند رہ نما محمد خاتمی کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں اصلاحات نہ کی گئیں تو ایرانی نظام یقینا زمین بوس ہو جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر حکمراں نظام کی پالیسیوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ دُہرایا اور کہا کہ معاشرے کے مسائل کو ایسے جوابات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا جن کی عمر کئی صدیاں ہوں۔

سرکاری اخبار "ایران" کے نمائندے کے مطابق محمد خاتمی نے یہ بات ہفتے کی شب ملک کے جنوب میں واقع شیراز یونیورسٹی میں طلبہ کی ثقافتی تنظیم کے ارکان سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے باور کرایا کہ امریکی پابندیوں کے عائد ہونے کے بعد ایران کو درپیش سنگین اقتصادی بحران کے بیچ اصلاحی عمل کی ناکامی کا مطلب نظام کا سقوط ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی نظام کے رہبرِ اعلی علی خامنہ ای داخلی سطح پر کشادگی کے واسطے اور امریکی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے لیے ایک نئے معاہدے کے سلسلے میں امریکا سے بات چیت کو مسترد کر چکے ہیں۔

محمد خاتمی نے گزشتہ ماہ انہوں نےمطالبہ کیا تھا کہ "لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے" اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے عوامی مظاہروں میں مہنگائی، افراطِ زر، قیمتوں میں اضافے اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کے مقابل تشدد کا استعمال مسترد کر دیا تھا۔

سابق ایرانی صدر خاتمی نے ملک کو حالیہ بحرانات سے نکالنے کے لیے 15 نکات پر مشتمل حل پیش کیا تھا۔ ان میں سبز تحریک کی قیادت اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، سرکاری میڈیا کارپوریشن میں جامع تبدیلی اور سیاسی ماحول کو کشادہ کرنا شامل ہے۔

تاہم اصلاح پسند حلقوں کے نزدیک خاتمی کی سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا میں نمودار ہونے پر عائد پابندیاں ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کے حکم پر ختم کی گئی ہوں گی۔ مبصرین کے مطابق اگر پابندیوں ، عوامی احتجاج یا امریکی دباؤ پر روک لگانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ایسی صورت میں یہ اقدام متبادل راستے تلاش کرنے کی کڑی ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں