ایران میں اصلاحات نہ ہوئیں تو حکمراں نظام زمین بوس ہو جائے گا : خاتمی
ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند رہ نما محمد خاتمی کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں اصلاحات نہ کی گئیں تو ایرانی نظام یقینا زمین بوس ہو جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر حکمراں نظام کی پالیسیوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ دُہرایا اور کہا کہ معاشرے کے مسائل کو ایسے جوابات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا جن کی عمر کئی صدیاں ہوں۔
سرکاری اخبار "ایران" کے نمائندے کے مطابق محمد خاتمی نے یہ بات ہفتے کی شب ملک کے جنوب میں واقع شیراز یونیورسٹی میں طلبہ کی ثقافتی تنظیم کے ارکان سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے باور کرایا کہ امریکی پابندیوں کے عائد ہونے کے بعد ایران کو درپیش سنگین اقتصادی بحران کے بیچ اصلاحی عمل کی ناکامی کا مطلب نظام کا سقوط ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی نظام کے رہبرِ اعلی علی خامنہ ای داخلی سطح پر کشادگی کے واسطے اور امریکی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے لیے ایک نئے معاہدے کے سلسلے میں امریکا سے بات چیت کو مسترد کر چکے ہیں۔
محمد خاتمی نے گزشتہ ماہ انہوں نےمطالبہ کیا تھا کہ "لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے" اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے عوامی مظاہروں میں مہنگائی، افراطِ زر، قیمتوں میں اضافے اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کے مقابل تشدد کا استعمال مسترد کر دیا تھا۔
سابق ایرانی صدر خاتمی نے ملک کو حالیہ بحرانات سے نکالنے کے لیے 15 نکات پر مشتمل حل پیش کیا تھا۔ ان میں سبز تحریک کی قیادت اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، سرکاری میڈیا کارپوریشن میں جامع تبدیلی اور سیاسی ماحول کو کشادہ کرنا شامل ہے۔
تاہم اصلاح پسند حلقوں کے نزدیک خاتمی کی سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا میں نمودار ہونے پر عائد پابندیاں ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کے حکم پر ختم کی گئی ہوں گی۔ مبصرین کے مطابق اگر پابندیوں ، عوامی احتجاج یا امریکی دباؤ پر روک لگانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ایسی صورت میں یہ اقدام متبادل راستے تلاش کرنے کی کڑی ہو گا۔
-
علی خامنہ ای ترکی کے گُن گاتے ہوئے تعاون وسیع کرنے کے خواہاں
ایران کے رہبرِ اعلی علی خامنہ ای نے جمعے کے روز ترکی اور روسی کے صدور کے ساتھ الگ ...
بين الاقوامى -
ابلاغی جنگ اقتصادی بحران کا اصل سبب ہے: خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی ...
بين الاقوامى