ایران کے شہر مشہد میں معروف بحرینی عالم دین پرنامعلوم افراد کا حملہ
بحرین کے ایک معروف عالم دین شیخ حسن التوبلانی پر ایران کے شہر مشہد میں امام علی بن موسیٰ رضا کے مزار کی زیارت کے دوران میں دو مرتبہ حملہ کیا گیا ہے۔ان پر پہلے چار افراد اور پھر چھے نامعلوم افراد نے حملہ کیا ہے ۔انھوں نے وطن واپسی پر میڈیا اور حکام کو اس حملے کی اطلاع دی ہے۔
شیخ حسن التوبلانی بحرین کی سپریم کونسل برائے اسلامی امور کے رکن ہیں۔ بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کی ویب سائٹ پر منگل کو پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں انھوں نے بتایا ہے کہ ’’ میں دوسرے بحرینی علماء کے ساتھ مزار کے باہر پیدل چل رہا تھا ۔اچانک چار افراد نمودار ہوئے اور انھوں نے میری توہین شروع کردی ، مجھے میرے موقف ، نظریات اور کونسل کی رکنیت پر بُر ا بھلا کہا‘‘۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’’اس زبانی حملے کے بعد میں اس جگہ سے چلا گیا لیکن جب اپنے سفر کے آخری روز میں مشہد گیا تو اس مرتبہ چھے افراد نے مجھ پر حملہ کردیا۔ان کی ضربوں کی تاب نہ لا کر میں زمین پر گر گیا‘‘۔
پھر پولیس نے انھیں تحقیقات کے لیے گرفتار کر لیا اور ان سے ایرا ن آنے اور بحرین سے تعلق کے بارے میں پوچھ تاچھ شروع کردی۔ایرانی حکام نے علامہ التوبلانی کی بحرین میں سرگرمیوں اور مختلف تقاریب کی تصاویر بھی انھیں دکھا ئی تھیں۔
انھوں نے بیان میں مزید بتایا ہے کہ ایرانی پولیس نے جعلی دستاویزات خرید کررکھی تھیں اور ان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے ایرانی قیادت کی تحقیر وتضحیک پر مبنی بیانات پر دستخط کیے تھے۔ان کے ایران کے اس سفر کا اہتمام ایک بحرینی کنٹریکٹر نے کیا تھا۔
انھوں نے خود پر ایرانی پولیس کے عاید کردہ الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ، جعلی دستاویزات کے من گھڑت ہونے کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا اور اپنے موقف کا بھرپور انداز میں دفاع کیا۔
بی این اے کی اطلاع کے مطابق علامہ شیخ حسن ذیابطسک اور بلند فشار خون کے مریض ہیں ۔اس کے باوجود انھیں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں چھے دن تک بند رکھا گیا۔وہ جب رہائی کے بعد اپنے ہوٹل کے کمرے میں پہنچے تو ان کی ہر چیز الٹ پلٹ تھی اور اس کمرے کی تلاشی لی گئی تھی۔