.

پاسداران ِ انقلاب ایران کی فوجی پریڈ پر حملہ ، 29 افراد ہلاک ، 60 زخمی

داعش کا جنوب مغربی شہر اہواز میں فوجی پریڈ کے شرکاء پر فائرنگ کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جنوب مغربی شہر اہواز میں ایک فوجی پریڈ کے دوران میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے پاسداران انقلاب کے 12 اہلکاروں سمیت 29 افراد ہلاک اور کم سے کم 60 زخمی ہوگئے ہیں۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے نمایندے نے اطلاع دی ہے کہ اہواز میں ہفتے کے روز فوجی پریڈ کے دوران میں متعدد مسلح افراد نے اچانک فائرنگ شروع کردی ۔ٹی وی کی رپو رٹ میں حملہ آوروں کو ’’ تکفیری مسلح افراد‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا قبل ازیں یہ اصطلاح داعش کے جنگجوؤں کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

داعش نے اپنی پروپیگنڈا نیوز ایجنسی اعماق کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ جنگجوؤں نے ایران کے جنوب میں واقع شہر اہواز میں مسلح افواج کے ایک اجتماع پر حملہ کیا ہے‘‘۔

لیکن اہواز کے ایک سیاسی گروپ کے ترجمان نے داعش کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی قومی مزاحمتی گروپوں نے کی ہے۔اس ترجمان کا کہنا ہے کہ عام شہری ایرانی سکیورٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں۔ سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے بھی حملے میں فوجیوں کے علاوہ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے فوجی پریڈ پر فائرنگ کے فوری بعد کی فوٹیج نشر کی ہے۔اس میں طبی عملہ کو فوجی وردی میں ملبوس ایک شخص کو طبی امداد دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔دوسرے سکیورٹی اہلکارپریڈ کے چبوترے ( اسٹینڈ) کے سامنے ایک دوسرے پر چلاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

ایران کی مسلح افواج کے ایک سینیر ترجمان بریگیڈئیر جنرل ابوالفضل شکرچی نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے پریڈ کے راستے کے نزدیک واقع علاقے میں کئی روز پہلے ہی اسلحہ چھپا رکھا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے تمام چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

ان چاروں حملہ آوروں نے اہواز کے القدس بلیووارڈ میں فوجی پریڈ کے شرکاء پر حملہ کیا تھا۔اہواز ایران کے تیل کی دولت سے مالا مال صوبے خوزستان کا دارالحکومت ہے۔اس صوبے میں ماضی میں عرب علاحدگی پسند تیل کی پائپ لائنوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

دریں اثناء ایرانی صدر حسن روحانی نے مسلح افواج کو پریڈ پر حملے میں ملوث عناصر کی شناخت کا حکم دیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے علاقائی ممالک اور ان کے ’’ امریکی آقا‘‘ پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے ۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ ایران ایرانیوں کی زندگیوں کے دفاع کے لیے فوری اور فیصلہ کن انداز میں جواب دے گا‘‘۔