.

چین کے سمندر میں امریکی عسکری جہاز رانی پر بیجنگ چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین نے اپنے جنوبی سمندر میں امریکا کی "آزادانہ جہاز رانی" پر شدید غصّے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ اعلان متنازع پانی میں امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کی اُن جزیروں کے نزدیک موجودگی کے بعد سامنے آیا ہے جن پر چین اپنی خود مختاری کا دعوی کرتا ہے۔

چینی وزارت دفاع نے منگل کے روز باور کرایا کہ امریکا کے مذکورہ اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی اور اس سلسلے میں امریکی جہاز کو علاقے سے کوچ کے لیے خبردار کرنے کو ایک چینی بحری جہاز روانہ کر دیا گیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بزور طاقت امریکا پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس طرح کی "اشتعال انگیز" کارروائیوں کو روک دے۔

اس سے قبل امریکی بحریہ نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا تھا کہ چین کے جنوبی سمندر میں متنازع پانی کے اندر چین کا ایک جنگی بحری جہاز امریکی لڑاکا بحری جہاز کے "خطرناک" حد تک قریب آ گیا۔

بحر اوقیانوس میں امریکی بیڑے کے ترجمان نائٹ کریسٹنسن کے مطابق امریکی بحریہ کا جنگی جہاز "USS Decatur" اتوار کی شب ویتنام اور فلپائن کے درمیان اسپریٹلے نامی جزیرے کے نزدیک کارروائی کر رہا تھا کہ اس دوران چینی بحریہ کا ایک جنگی جہاز 45 گز سے بھی کم دوری پر آ گیا اور امریکی جہاز سے مطالبہ کیا کہ وہ علاقے سے کوچ کر جائے۔

واضح رہے کہ امریکا باقاعدگی کے ساتھ چین کے جنوب میں واقع سمندر میں اپنے جنگی جہازوں کو بھیجتا ہے۔ مذکورہ علاقے کا پانی چین، ویتنام اور فلپائن کے درمیان متنازع ہے۔ امریکا "آزادانہ جہاز رانی" کے موقف کو مضبوط بنانے کے لیے اس علاقے میں اپنے جہاز بھیجتا ہے۔ بیجنگ کے مطابق چین کے جنوب میں تقریبا پورے سمندر پر اس کی خود مختاری ہے۔ اگرچہ 2016ء میں بین الاقوامی فیصلہ جاری ہوچکا ہے جو اس کے حق میں نہیں رہا۔

فلپائن اور ویتنام کے علاوہ ملائیشیا، برونائی اور تائیوان بھی چین کے سمندر میں بیجنگ کے زیر کنٹرول دیگر علاقوں میں اپنی خود مختاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔