.

ماسکو نے واشنگٹن کو جوہری سمجھوتے سے علاحدگی سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں کرملن ہاؤس نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ درمیانی مار کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے سے امریکی دست برداری"دنیا کو مزید خطرے سے دوچار کر دے گی۔ اعلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا خود اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

کرملن کے ترجمان دمتری بیسکوف نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کے مذکورہ سمجھوتے سے نکل جانے کی صورت میں روس جوہری طاقت کے توازن کو واپس لانے کے لیے اقدامات پر مجبور ہو جائے گا۔ ترجمان نے باور کرایا کہ روس "کسی پر بھی حملے میں پہل ہر گز نہیں کرے گا"۔

بیسکوف نے مزید بتایا کہ اگر امریکا نے درمیانی مار کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے سے دست بردار ہونے کے بعد نئے میزائل تیار کرنا شروع کیے تو روس اسی طرح جواب دینے پر مجبور ہو گا۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ ماسکو یہ توقع رکھتا ہے کہ واشنگٹن اس سمجھوتے سے نکلنے کے اپنے ارادے کے حوالے سے تفصیل پیش کرے گا۔ سرد جنگ کے زمانے میں طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ یورپ سے جوہری میزائلوں کے ختم کیے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا 1987ء میں دستخط کیے جانے والے درمیانی مار کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے سے علاحدہ ہو جائے گا۔ ٹرمپ نے ماسکو پر سمجھوتے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن پیر کے روز ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف سے ملاقات کر رہے ہیں۔ لاؤروف اس معاملے کے حوالے سے امریکی مشیر کی جانب سے وضاحت کے منتظر ہیں۔