.

امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مطابق سعودی عرب کے معاہدے ویژن 2030 کے کام آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے متعدد عہدے داروں نے باور کرایا ہے کہ اسلحے کے معاہدوں کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے معاملات کا طریقہ کار تبدیل ہو چکا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد مملکت کی معیشت کو فائدہ پہنچانا اور سعودی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے والے معاہدے اب محض ہتھیاروں کی درآمد تک محدود نہیں ، ویژن 2030 پروگرام نے معاہدوں میں بنیادی حیثیت اختیار کر کے کھیل کے اصول بدل دیے ہیں۔

اسلحہ سازی کی مشہور کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی ایک اندرونی یادداشت میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ امریکا کے ساتھ اسلحے سے متعلق حالیہ معاہدوں سے سعودی شہری مستفید ہوں گے۔ اس دوران مملکت میں 10 ہزار ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔

امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے کئی سینئر عہدے داروں نے باور کرایا ہے کہ ریاض کے سمجھوتوں میں مقامی صںعت کی ترقی اور سعودیوں کے لیے ملازمتوں کی فراہمی پر اصرار کیا جا رہا ہے جو کہ ویژن 2030 کے عین مطابق ہے۔

سعودی عرب کے پروگرام ویژن 2030 میں عسکری صنعت میں مقامی افرادی قوت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عسکری اخراجات کے ایک حصّے کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر صنعتی سرگرمیوں اور معاون خدمات کی تلاش پر زور دیا گیا ہے۔ ان میں صنعتی ساز و سامان، کمیونی کیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی شامل ہے۔

ویژن پروگرام کے تحت سال 2030ء تک عسکری اخراجات میں مقامی صںعت کا حصّہ 50% تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سال 2015ء تک عسکری اخراجات میں مقامی صںعت کا حصّہ 2% سے زیادہ نہیں تھا۔