یمنی پریس کے بڑے دشمن حوثی لیڈر کی تحریر چھاپنے پر واشنگٹن پوسٹ کی مذمت
یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر حراست صحافیوں کے خاندانوں نے باغی گروپ کے قائد دوم کی تحریر شائع کرنے پر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ مضمون نگار محمد علی الحوثی تو خود دسیوں یمنی صحافیوں کا قاتل ہے۔
حوثی ملیشیا کے زیر حراست ایک یمنی صحافی کے بھائی عبدالباسط القیادی نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ قاتل اور مجرم محمد علی الحوثی کے مضمون کی واشنگٹن پوسٹ میں اشاعت اس پرانے اخبار کے پیشہ ورانہ زوال و انحطاط کی بدترین علامت ہے۔اخبار کے اس کردار کے بارے میں یمنی میڈیا میں بہت سے سوال اٹھائے جارہے ہیں‘‘۔
القیادی کا کہنا ہے کہ ’’محمد علی الحوثی نے گردوغبار سے مسخ شدہ وقار اور پریس کی آزادی کے بارے میں بات کی ہے جبکہ ان کے زیر قیادت ملیشیا جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے اور یمنی پریس کے حقوق کو سلب کررہی ہے۔ حوثی ملک میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ہیں‘‘۔
قیادی کے بھائی صلاح کو حوثیو ں نے 2015ء میں اغوا کر لیا تھا اور وہ تب سے محض صحافی ہونے کی بنا پر زیر حراست ہیں ۔انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔پھر جبری طور پر لاپتا کردیا گیا تھا اور کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ بدقسمتی سے ’دا واشنگٹن پوسٹ‘ ایسے موقر اخبار نے ایک ایسے شخص کو سعودی عرب اورعرب اتحاد کے خلاف خامہ فرسائی کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر پابندیاں عاید ہیں اور جس پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں‘‘۔
قیادی کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی اس وقت ایک سکیورٹی جیل میں قید ہیں اور ان کے ساتھ 16 دیگر یمنی صحافی بھی بند ہیں، انھیں ایک خستہ حال کوٹھڑی میں قید کیا گیا ہے ،انھیں خوراک اور ادویہ محدود مقدار میں مہیا کی جارہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ حوثیوں کی نظر میں کوئی بھی صحافی مجرم ہے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے صنعاء پر قبضے کے بعد اس کو صحافیوں سے پاک کردیا تھا اور انھوں نے سب سے پہلے بھاری ہتھیاروں سے یمنی ٹیلی ویژن پر حملہ کیا تھا حالانکہ اس وقت اس کی عمارت میں کم سے کم تین سو ملازمین ،موجود تھے‘‘۔
حوثیوں کے زیر حراست ایک اور صحافی توفیق المنصوری کے بھائی وداح المنصوری نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی سمیت نو صحافیوں کو 2015ء میں صنعاء کے ایک ہوٹل سے اغوا کیا گیا تھا اور وہ اب تک حوثیوں کے زیر حراست ہیں۔
ان صحافیوں کے خاندانوں کے علاوہ عام یمنیوں نے بھی حوثی ملیشیا کی نام نہاد سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی کے مضمون کی 9 نومبر کو واشنگٹن پوسٹ میں اشاعت پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔محمد علی الحوثی کو ایران نواز ملیشیا میں عبدالملک الحوثی کے بعد دوسرا بڑا لیڈر سمجھاجا تا ہے۔ان پر 26 یمنیوں کو قتل کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا الزام ہے۔ان کے ایما پر اس وقت بھی یمن میں 16 صحافی حراستی مراکز میں بند ہیں اور صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔