خاشقجی کے قتل کیس کے حوالے سے فرانس اور ترکی میں الزامات کا تبادلہ

فرانس کا ترکی پرصحافی کے قتل پر سیاست چمکانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کے واقعے پر ترکی اور فرانس کے درمیان ایک دوسرے پرالزامات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

العربیہ چینل کے مطابق ترک وزیرخارجہ مولود جاویش اوگلو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک جمال خاشقجی کے قتل کی مکمل تحقیقات کررہا ہے اور اس حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی برتی جائے گی۔ دوسری جانب فرانس نے ترک صدر پرالزام عاید کیا کہ وہ خاشقجی کے قتل کیس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہےہیں۔ ترک وزیرخارجہ نے فرانس کا وہ الزام بھی مسترد کردیا اور کہا کہ ہم نے خاشقجی کے قتل کے حوالے سے ریکارڈنگ امریکا، سعودی عرب اور فرانس کے حوالے کردی ہیں۔ ان کا کہنا تھا خاشقجی کیس کے حوالے سے ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں۔

درایں اثناء فرانسیسی وزیرخارجہ جون ایف لووڈریان نے کہا ہے کہ انہیں ترکی کی طرف سے دی گئی ریکارڈنگ نہیں ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں