.

جنرل خلیفہ حفتر پالرمو لیبیا کانفرنس میں بھرپور طریقے سے کیوں شریک نہیں ہوئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے اٹلی کے شہر پالرمو میں منعقدہ کانفرنس میں اپنے اظہارِ ناراضی کے لیے بھر پور طریقے سے شرکت نہیں کی ہے اوروہ اطالوی وزیر اعظم جیسپے کونٹے کی جانب سے کانفرنس میں شریک لیڈروں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں بھی شامل نہیں ہوئے ہیں۔

اطالوی وزیراعظم نے بڑی خوش اُمیدی کے ساتھ لیبیا کے بارے میں منعقدہ پالرمو کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا ہے لیکن ان کے اختتامی کلمات سے کوئی دو گھنٹے قبل ہی جنرل خلیفہ حفتر اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی واپس چلے گئے تھے۔

قبل ازیں خلیفہ حفتر کی کانفرنس میں شرکت کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں اور ان کے مشیروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیراعظم کونٹے کے شرکاء کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت نہ کرنے پر معذرت کی ہے۔

فرانسیسی اخبار لی موندے نے لیبیا کی فوج کے ایک ترجمان کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ خلیفہ حفتر پالرمو میں محض کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ وہ پڑوسی ممالک کے لیڈروں سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

انھوں نے کانفرنس کے انعقاد سے قبل سفارتی سطح پر رونما ہونے والے واقعا ت پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ان کے ایک مشیر کے مطابق انھوں نے اٹلی کے نائب وزیراعظم ماٹیو سلوینی کی ایک ٹویٹ کو بھی نہیں سراہا تھا۔موخر الذکر نے 31 اکتوبر کو قطر کے دورے کے موقع پر ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’ انھوں نے ایک باوقار اور روادار ملک کو دریافت کیا ہے ،جس نے انتہاپسندی کو نکال باہر کیا ہے اور وہ لیبیا میں استحکام میں مدد دے گا‘‘۔

مگر قطر ترکی کی قیادت میں اس علاقائی اتحاد کا حصہ ہے جو خلیفہ حفتر کے مخالفین کی حمایت کررہا ہے اور ان مخالفین کا تعلق اخوان المسلمون کے کیمپ سے ہے جبکہ متحدہ عرب امارات اور مصر جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت کررہے ہیں۔

ترکی کے وزیر دفاع نے 5 نومبر کو طرابلس کے دورے کے موقع پر وزیراعظم فایزالسراج سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد 9 نومبر کو مؤخر الذکر نے انقرہ کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی تھی۔خلیفہ حفتر کے مشیر کے مطابق وہ اس پیش رفت سے بھی نالاں تھے اور پالرمو کانفرنس میں شرکت نہ کرکے اپنے میزبانوں کے سامنے اپنی ناراضی کا اظہار چاہتے تھے۔