ایرانی رہبر اعلیٰ‌ کے نائب نے وزیر خارجہ پرغصہ کیوں نکالا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک مقرب اور ان کے نائب احمد علم الھُدیٰ نے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشہد شہر میں نماز جمعہ کے ایک اجتماع سے خطاب میں علم الھدیٰ نے نام لیے بغیر دونوں عہدیداروں پر شدید تنقید کی۔ انہوں‌ نے کہا کہ بعض عہدیداران دنوں یہ کہتے پائے گئے کہ ’’ایران میں منی لانڈرنگ اب عام بات ہے اور ہر ایک کو اس کا علم ہے۔ ایسی باتیں کرنے والے حالات ٹھیک کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر درحقیقت وہ دشمن کو ایران پر دبائو ڈالنے کا موقع دے رہے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے چند ہفتے قبل اعتراف کیا تھا کہ ایران میں‌ منی لانڈرنگ وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ ان کے اس بیان پر بنیاد پرست حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور پارلیمنٹ میں ان سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا گیا۔

جوہری توانائی کمیٹی کے سربراہ علی اکبرصالحی پر علم الھدیٰ کی تنقید ان کا تنخواہ سے متعلق ایک بیان بنا ہے۔ علی اکبرصالحی نے "یورو نیوز" کو دیئے گئے انٹرویو میں‌کہا تھا کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ہماری تنخواہیں کم کر دی ہیں۔ ایک سال قبل میری تن خواہ 3000 ڈالر تھی اور پابندیوں کے بعد اب وہ صرف 700 ڈالر رہ گئی ہے۔

علم الھدیٰ کا کہنا تھا کہ "یورو نیوز" کو انٹرویو دینے والے عہدیدار نے یہ تسلیم کیا ہے کہ امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کی جانے والی پابندیاں موثراور کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ نومبر میں‌امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں جن میں ایرانی تیل اور گیس کے شعبوں کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں