عراق میں کرد تنظیم کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھیں گے: ترکی
ترکی نے عراق میں کرد تنظیم 'ورکرز پارٹی' کے ٹھکانوں پر بمباری پر عراقی حکومت کا احتجاج مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ عراق میں کرد تنظیم کے ٹھکانوں پرفضائی حملے جاری رکھیں گے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل عراق نے بغداد میں متعین ترک سفیر کوطلب کرکے ترک فوج کی فضائی کارروائیوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ترکی کے فضائی حملوں کو عراق کی خود مختاری پرحملہ قرار دیا تھا۔
جمعہ کے روز ترک فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 'کردستان ورکرز پارٹی' کے جنگجوئوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ فوج کے بیان میںکہا گیا تھا کہ شمالی عراق میں کی گئی ایک کارروائی میں کم سے کم 8 کرد جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس واقعےکےبعد عراق نے ترک سفیر کودفتر خارجہ میں طلب کرکے ان سے سخت احتجاج کیا تھا۔
خیال رہے کہ ترکی عراق میں کرد گروپوں کے ٹھکانوں پر مسلسل بمباری کرتا رہتا ہے۔ ترکی اور یورپی یونین نے اس گروپ کو دہشت گردتنظیم قرار دے رکھا ہے۔ یہ گروپ ترکی کے خلاف علاحدگی کی تحریک چلا رہاہ ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے حال ہی میں شمالی شام میں بھی کرد جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا اعلان کیاتھا۔
گذشتہ روز ترک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں کرد دہشت گردوں کے خلاف حملے جاری رکھے جائیں گے۔بیان میں کہا گیاہے کہ عراق کا کردوں کے خلاف ترک فوج کی کارروائی پر اعتراض اور احتجاج بلا جواز ہے۔
-
ترکی کی فوج عراقی کردستان میں 20 کلو میٹر تک اندر آ گئی
عراقی کردستان کے صوبے اربیل میں ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کی فوج ایک بار پھر ...
بين الاقوامى -
ترکی اور ایران نے عراقی کردستان کو سخت پابندیوں سے خبردار کر دیا
ایران کے وزیر دفاع امیر خاتمی نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران اور ترکی خطے میں کسی ...
مشرق وسطی -
ترک صدر کی عراقی کردستان میں فوجی مداخلت کی دھمکی
کردستان کی آزادی ترکی کے لیے بالکل ناقابل قبول اور ’’زندگی اور موت کا مسئلہ‘‘ ہے: ...
بين الاقوامى