روس، ترکی اور ایران "شام کی آئین ساز کمیٹی "پر اتفاق رائے کے لیے کوشاں
روس، ایران اور ترکی شام کے لیے آئین ساز کمیٹی تشکیل دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تا کہ انتخابات سے قبل نئے آئین کی تیاری کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس بات کا انکشاف پیر کے روز سفارتی ذرائع نے کیا۔
ذرائع کے مطابق تینوں ملکوں کے وزراء خارجہ منگل کے روز جنیوا میں اکٹھا ہو رہے ہیں جہان وہ اپنی مشترکہ تجویز کے لیے اقوام متحدہ کی موافقت کے خواہاں ہوں گے۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا رواں سال جنوری سے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ نئی آئین ساز کمیٹی کے ارکان کے طور پر 150 شخصیات کے تعین پر اتفاق رائے کو یقینی بنا لیا جائے۔
سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت اور شامی اپوزیشن دونوں نے اپنے اپنے 50 ناموں کی فہرست پیش کر دی ہے تاہم روس، ترکی اور ایران ،،، سول سوسائٹی اور آزاد ارکان پر مشتمل 50 ناموں کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔
اس سے قبل اتوار کے روز ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر بشار الاسد جمہوری انتخابات میں جیت سے ہمکنار ہوئے تو ترکی اور دیگر ممالک اُن کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔
رواں ہفتے کے آغاز پر ڈی میستورا نے کہا کہ شام کی آئین ساز کمیٹی سیاسی پیش رفت کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ڈی میستورا کو آئین ساز کمیٹی کی تشکیل مکمل کرنے کے حوالے سے تینیوں ممالک کی تجویز قبول کرنے کے لیے "شدید دباؤ" کا سامنا ہو گا ،،، تاہم ڈی میستورا اس فیصلے کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس کے واسطے چھوڑ سکتے ہیں۔
ڈی میستورا اتوار کے روز یہ باور کرا چکے ہیں کہ "آخری فیصلہ ہمارا یعنی اقوام متحدہ کا ہو گا.. یہ فیصلہ کسی ملک کا نہیں خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو"۔
-
شام سے متعلق ترک صدر کے ٹرمپ کے بارے میں موقف سے لا علم ہیں: پینٹا گون
امریکی محکمہ دفاع 'پینٹا گون' نے کہاہے کہ امریکی فوجی قیادت ترک صدر رجب طیب ...
بين الاقوامى -
بشارالاسد جمہوری طور پر منتخب ہوں تو ان کے ساتھ کام پرغور کریں گے: ترکی
ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نےکہا ہے کہ اگرشام میں شفاف، آزادانہ اور ...
بين الاقوامى -
سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا ترکی کے کسی بھی حملے کی بھرپور مزاحمت کا عزم
شام میں امریکا کی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے کمانڈر کا کہنا ...
مشرق وسطی