افغانستان میں رواں سال کا سب سے زیادہ خونی حملہ ، ہلاکتوں کی تعداد 43 ہو گئی
افغانستان میں وزارت صحت نے منگل کے روز بتایا ہے کہ دارالحکومت کابل میں سرکاری کمپلیکس پر حملے میں 43 افراد ہلاک ہو گئے۔ رواں سال افغان دارالحکومت میں ہونے والا یہ خون ریز ترین حملہ تھا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس دوران آتشی ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کے علاوہ خود کش دھماکے بھی ہوئے۔
افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح کے مطابق پیر کے روز ہونے والے اس حملے میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔ کارروائی میں سرکاری کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جہاں پبلک ورکس اور سماجی امور کی وزارت کے دفاتر واقع ہیں۔
مسلح افراد نے کمپلیکس کے داخلی راستے پر کار دھماکا کرنے کے بعد عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس کے نتیجے میں وہاں موجود ملازمین وہاں سے بھاگ نکلے اور بعض نے جان بچانے کے لیے کھڑکیوں سے باہر چھلانگ لگا دی۔
جائے واقعہ پر سکیورٹی فورسز کے پھیل جانے اور حملہ آوروں کے ساتھ جھڑپوں کے ساتھ عمارت کے اندر سیکڑوں افراد یرغمال بن گئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کابل میں ایک مذہبی اجتماع کے بیچ خود حملے کے نتیجے میں 55 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
y
-
افغانستان : فراہ میں طالبان کے حملے میں 22 پولیس اہلکار ہلاک
افغانستان کے مغربی صوبے فراہ میں طالبان کے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے ...
بين الاقوامى -
افغانستان :طالبان کے فوجی اڈے پر حملے میں 12 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 16 ہلاک
افغانستان کے شمالی صوبے بغلان میں طالبان نے ایک فوجی اڈے پر حملہ کر کے ...
بين الاقوامى -
افغانستان: پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ، تشدد کے واقعات میں 130 افراد ہلاک اور زخمی
افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران میں تشدد کےو اقعات ...
بين الاقوامى