افغانستان کے شمال میں طالبان کے دو حملے ، 15 پولیس اہل کار ہلاک
افغانستان کے شمال میں واقع صوبے سرپل میں طالبان تحریک کے دو حملوں میں کم از کم 15 پولیس اہل کار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
پہلے حملے میں جو صوبے کے صدر مقام سر پل شہر کے اطراف میں ہوا ،،، افغان فورسز نے حملہ آوروں کو روکنے کے لیے بھاری گولہ باری کی۔ اس دوران مقامی آبادی کے لوگ محفوظ رہنے کے لیے علاقے سے فرار ہو گئے۔
سر پل صوبے کی کونسل کے سربراہ محمد نور رحمانی کے مطابق پیر کو رات گئے ہونے والے دونوں حملوں میں 15 پولیس اہل کاروں کے مارے جانے کے علاوہ 21 زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سید کے علاقے اور سر پر شہر کے باہر کئی گھنٹوں تک گھمسان کی لڑائی جاری رہی۔
طالبان تحریک کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے تحریک کی جانب سے دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کر لی۔
واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے 17 برس سے جاری جنگ ختم کرنے کی بھرپور کوششوں کے باوجود ،،، طالبان تحریک قریبا ہر روز افغان فورسز کے خلاف حملے کر رہی ہے۔
-
افغانستان میں آیندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات ملتوی
افغانستان کے الیکشن کمیشن نے ملک میں آیندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کی افغانستان ، لیبیا اور عراق میں دہشت گردی کے حملوں کی مذمت
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں وزارت ِخارجہ کی ...
بين الاقوامى -
افغانستان میں رواں سال کا سب سے زیادہ خونی حملہ ، ہلاکتوں کی تعداد 43 ہو گئی
افغانستان میں وزارت صحت نے منگل کے روز بتایا ہے کہ دارالحکومت کابل میں سرکاری ...
بين الاقوامى