.

قطری ذرائع ابلاغ کے محاسبے کے لیے امریکی کانگریس میں نیا بل لانے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلیکن پارٹی کے ارکان نے کانگریس میں ایک نیا بل لانےکی کوششیں شروع کی ہیں جس کا مقصد امریکا میں قطرکے وفادار ذرائع ابلاغ پر نظر رکھنا اور ان کا محاسبہ کرنا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد امریکا میں روسی ذرائع ابلاغ کے آمد کے ذرائع ، اخراجات کی مدات اور دیگر امور کی شفافیت کی جانچ پڑتال بھی کی جاسکے گی۔

امریکی اخبار'ڈیلی بیسٹ' کے مطابق نئے بل کے اہداف میں قطر کے انگریزی چینل الجزیرہ کو سر فہرست رکھاگیا ہے۔ کانگریس میں قطرکے حامی ابلاغی اداروں‌پر نظر رکھنے کے لیے تیار ہونے والےبل سے قبل ارکان نے الجزیرہ چینل کے 'تحت المجھر' پروگرام کے دو سال تک نشر ہونے والے مواد کا جائزہ لیا اور اس مواد میں پیش کی جانے والی رپورٹس اور ان میں عاید کردہ الزامات کا باریکی جائزہ لیا گیا۔ اس پروگرام میں ان تنظیموں کی کھلی حمایت دکھائی دیتی ہے جنہیں واشنگٹن دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ یہ پروگرام ان گرپوں کے موقف کی ترویج کرتا اور ان کے قطری مالی معاونت کاروں کا دفاع کرتا ہے۔

کانگریس میں بل کی منظوری کے بعد الجزیزہ انگری چینل امریکا میں غیرملکی ابلاغی اداروں کے لیے وضع کردہ قوانین کی پابندی کرتے ہوئے ایسا مواد پیش کرنے سے باز آنا پڑے گا جو مبینہ طورپر دہشت گردی کی ترویج سمجھا جاتا ہے۔ چینل کو امریکا کی 'فیڈرل کمیونیکیشن کمیٹی'FCC ' کو باقاعدگی کے ساتھ چینل پر نشر ہونے والے مواد اور امریکا سے باہر کام کرنے والی کمپنیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔

قطری ٹی وی چینلوں پر نظر رکھنے کے بل کو گذشتہ برس پینٹا گون کی طرف سے منظور کردہ قانون کا حصہ سمجھا جائے گا۔ یہ قانون ری پبلیکن رکن کانگرس الیز سٹیفانیک اور اس کے ڈیموکریٹک ساتھی سیتھ مولٹن نے پیش کیا تھا۔ وہ دنوں سینٹ میں مسلح سروسز کمیٹی کے ارکان ہیں۔

رکن کانگریس سیتھ مولٹن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ روس لے"رشیا ٹوڈے" چینل کی طرح کسی دوسرے ابلاغی ادارے کو امریکیوں کے لیے مصیبت کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ رشیا ٹو ڈے امریکا میں جمہوریت کے خلاف پروپیگنڈہ کررہا ہے۔

دونوں ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ مسودہ قانون کے تحت امریکا کے اندر روسی ابلاغی اداروں کو گمراہ کن مہمات چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ رشیا ٹو ڈے اور 'سپٹنیک' جیسے ابلاغی ادارے امریکی عوام میں منفی سوچ پیدا کرنے اورگمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے میں ملوث ہیں۔

الجزیرہ چینل کی سرگرمیاں

کانگریس کے ارکان کا کہناہے کہ نئے بل کی منظوری کے بعد قطر کے انگریزی چینل کو اپنی سرگرمیوں اور قطری حکومت کےساتھ اپنے تعلق کی وضاحت کرنا ہوگی۔

کانگریس کے ایک دوسرے روکن لی زیلڈین کا کہناہے کہ وفاقی حکومت کی طف سے الجزیرہ انگریزی چینل پر نشرہونے والے مواد کو سینسر کرنے اور کڑی نگرانی کے عمل سے امریکا میں ابلاغی شعبوں میں شفافیت پیدا ہوگی۔ امریکی حکومت کو علم ہونا چاہیے کہ الجزیرہ انگریزی چینل کے مالی معاونت کاروں اور قطری حکومت کے درمیان کس نوعیت کا تعلق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں الجزیرہ انگلش چینل کو 'FARA' قانون کے تحت رجسٹرڈ کرانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اس قانون کے تحت امریکا میں سرگرم غیرملکی لکابیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاتی اور ان کے غیرملکی حکومتوں کے ساتھ تعلقات کا پتا چلایا جاتا ہے۔

اگرچہ کانگریس میں پیش کیے جانے والے بل کا ہدف الجزیرہ انگریزی چینل ہےمگر اس کے بعد قطر کے موقف کی ترویج کرنے والے دیگر ابلاغی اداروں کو بھی اس چھلنی سے گذرنا پڑے گا۔