.

سعودی فورسز کی القطیف میں واقع گاؤں میں کارروائی ، 6 مطلوب افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے صوبہ القطیف میں واقع ایک گاؤں الجش میں پیشگی حفاظتی اقدام کے تحت شروع کی گئی کارروائی مکمل ہوگئی ہے۔ اس میں چھے مطلوب افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ایک کو سکیورٹی فورسز نے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے ) کے مطابق پریذیڈینسی برائے اسٹیٹ سکیورٹی کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی ادارے القطیف میں مشتبہ انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے تھے اور انھیں ایسے اشارے ملے تھے کہ مشتبہ عناصر صوبے میں واقع گاؤں الجش میں ایک مجرمانہ کارروائی انجام دینے والے ہیں۔ اس کا مقصد ریاستی سکیورٹی کو نقصان پہنچا نا اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔

اس اطلاع کے بعد سکیورٹی فورسز نے سوموار کو مشتبہ افراد کے ٹھکانے پر چھاپا مار کارروائی کا آغاز کیا تھا ۔ انھوں نے اس مکان کے اندر موجود مشتبہ افراد سے ہتھیار ڈالنے اور خود کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ا نھوں نے اس پیش کش کو مسترد کردیا اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانب فائرنگ شروع کردی۔

سکیورٹی فورسز نے اس علاقے میں موجود لوگوں اور راہگیروں کی جانوں کو درپیش خطرے کے پیش نظر جوابی کارروائی کی۔سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں چھے مطلوب دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔ان کے نام یہ ہیں: عبدالمحسن طاہر محمد الأسود، عمار ناصر علی آل أبوعبدالله ،علی حسن علی آل ،عبدالمحسن عبدالعزيز آل أبوعبدالله ،محمد حسين مكی الشبيب اور یحییٰ زكريا مہدی آل عمار۔

جھڑپ کے بعد عادل جعفر نامی ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔وہ جھڑپ کے دوران میں زخمی ہوگیا تھا اور اس کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔وہاں اس کی حالت تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔ان کے قبضے سے 22 موبائل فو ن ، ایک لیپ ٹاپ ، سات خود کار آتشیں رائفلیں ، گولیوں سے بھرے میگزین اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

ان تمام مشتبہ افراد کے نام حکام کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے اور وہ ریاست دشمن تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔انھوں نے صوبہ القطیف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کیے تھے اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے تھے۔