.

سلامتی کونسل: الحدیدہ میں مبصرین کے مشن میں توسیع کے لیے قرار داد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے جمعہ کے روز سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں یمن کے شہر الحدیدہ میں فائر بندی پر عمل درامد کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی مبصرین کے مشن میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مشن بھوک اور قحط سالی کے خطرے کا سامنا کرنے والے لاکھوں یمنیوں کے لیے انسانی امداد پہنچائے جانے کے عمل کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔

سفارت کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ سلامتی کونسل میں اس قرارداد پر رائے شماری آئندہ ہفتے ہو گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو قرار داد کے مسودے کی کاپی موصول ہوئی ہے۔ اس کے مطابق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الحدیدہ اور اس کی بندرگاہوں اور الصليف اور راس عيسى کی دو بندر گاہوں پر 75 کے قریب مبصرین کو تعینات کیا جائے جن کی ابتدائی مدت چھ ماہ ہو۔

یاد رہے کہ سویڈن میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونے والی یمنی امن بات چیت میں 18 دسمبر کو طے پائے گئے معاہدے کے مطابق اقوام متحدہ کو بین الاقوامی مبصرین کی ٹیم یمن بھیجنا تھی۔ تاہم اس وقت یمن میں موجود ٹیم چھوٹی ہے اور 16 مبصرین پر مشتمل ہے۔ ٹیم کی سربراہی ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے جنرل پیٹرک کمائرٹ کے پاس ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے بدھ کے روز تنازع کے فریقین سے مطالبہ کیا کہ بات چیت کے آئندہ دور کے انعقاد سے قبل جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے واسطے ایک "بڑی پیش رفت" کو یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بدھ کے روز سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ فائر بندی اور جنگ کے دونوں فریقوں کی نئی صف بندی کی نگرانی کے واسطے الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ پر چھ ماہ کے لیے 75 کے قریب مبصرین تعینات کیے جانے کی منظوری دی جائے۔