.

لیبیا کے جنوب میں داعش کے تعاقب کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے ملک کے جنوبی علاقے کو چاڈ اور سوڈان کے گروپوں سے پاک کرنے اور وہاں داعش تنظیم کا تعاقب کرنے کے لیے اتوار کے روز ایک وسیع فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

اس آپریشن کا اعلان ملک کے جنوب میں فوج کے ٹھکانوں اور مراکز پر چاڈ اور سوڈان کی جماعتوں کے حملوں اور علاقے میں داعش تنظیم کے زمینی پھیلاؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔ مذکورہ علاقہ ملک کے ایک تہائی رقبے پر مشتمل ہے اور ملک میں تیل کی زیادہ تر آئل فیلڈز اسی علاقے میں واقع ہیں۔

لیبیا کی فوج کی جانب سے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے جنوب میں "موت کا حکم" آپریشن پر عمل درامد کے لیے تیاری مکمل ہے۔ اس دوران فوجی گاڑیوں، ساز و سامان اور نفری کی شکل میں اضافی کمک کو شدت پسندوں کے خلاف حرکت میں آنے کے لیے مذکورہ علاقے میں پہنچا دیا گیا ہے۔

عسکری ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ فوجی کمک پہنچنے کے بعد لڑاکا طیاروں نے لیبیا کے جنوب میں گشت شروع کر دیا تا کہ تراغن، ام الارانب اور براک الشاطی کے علاقوں میں فضائی حملوں سے قبل مسلح عناصر کے ٹھکانوں کا تعین کیا جا سکے۔

لیبیا کے جنوب میں سکونت پذیر مقامی آبادی چاڈ کے اپوزیشن لیڈر تیمان اردیمی کے زیر قیادت مسلح گروپوں کی دراندازی سے نالاں ہیں ،،، واضح رہے کہ اردیمی قطر میں مقیم ہیں۔ علاوہ ازیں سوڈانی گروپ جو اہم صحرائی راستوں پر قابض ہیں اور وہاں رہ کر اغوا برائے تاوان کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

لیبیا میں حفتر کے زیر قیادت مسلح افواج ملک کے جنوب میں موجود غیر ملکی ملیشیاؤں اور شدت پسند تنظیموں کو نکال دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس مقصد کے لیے گزشتہ برس سے عسکری آپریشنز جاری ہیں تا کہ تزویراتی اہمیت کے حامل اس دُور دراز علاقے کو مکمل طور پر کنٹرول میں لیا جاس کے جہاں اہم عسکری اڈے واقع ہیں۔