.

سوڈان: حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا اتوار کو پارلیمان کی جانب مارچ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں حکومت مخالف مظاہروں کو منظم کرنےو الے گروپ نے آیندہ چند روز میں مزید احتجاجی ریلیوں اور دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان میں پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوڈان کی مختلف ٹریڈ یونینوں پر مشتمل پروفیشنل ایسوسی ایشن نے ہفتے کے روز ایک بیان میں پارلیمان کی جانب مارچ کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ پارلیمان کے ارکان کو ایک یادداشت پیش کی جائے گی ۔اس میں صدر عمر حسن البشیر سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سوڈانی شہریوں نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران میں دریائے نیل کے مغربی کنارے میں واقع اُم درمان میں متعدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔سوڈانی پارلیمان اسی شہر میں واقع ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ دارالحکومت خرطوم میں اتوار کو اور منگل کی شام مظاہرے کیے جائیں گے۔اسی روز اُم درمان سمیت سوڈان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

خرطوم میں جمعہ کو ایک جنازہ احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور اس کے شرکاء نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اُم درمان میں نمازِ جمعہ کے بعد لوگوں نے حکومت کے خلاف جلوس نکالے تھے اور احتجاجی مظاہروں کے دوران میں حکومت کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ وہ ’’ آزادی ، امن اور انصاف‘‘ کے نعرے لگارہے تھے اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔

سوڈان میں 19 دسمبر کو حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے ۔پھر احتجاجی مظاہرین نے صدر عمر البشیر سے استعفے کا مطالبہ شروع کردیا تھا ۔سوڈانی صدر نے چند روز قبل ایک بیان میں استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ 2020ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاری کریں اور انتخاب جیت کر اقتدار میں آئیں۔

تاہم ان کی حکومت نے احتجاجی مظاہروں کے شرکاء کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا ہے اور انھیں مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال پر کڑی تنقید کا سامنا ہے لیکن سوڈانی صدر نے مظاہرین پر تشدد کے الزامات عاید کیے ہیں اور کہا ہے کہ ہمارے خلاف سازش کرنے والے لوگوں ہی نے آتش گیر مواد سے پر حملے کیے ہیں اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا یا ہے۔

سوڈان میں گذشتہ ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں 800 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس دوران میں تشدد کے واقعات میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد مارے گئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ہلاکتوں کی تعداد 40 بتائی ہے۔