امریکی ایچ ون بی ویزا فیس نافذ کرنےکانیامنصوبہ ،بھارتی آئی ٹی انڈسٹری کےلیےخطرہ :نیسکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت میں آئی ٹی انڈسٹریز کو ریگولیٹ کرنے والی باڈی نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کی ویزا درخواستوں کے ساتھ ایک لاکھ ڈالر کی نئی فیس کی شرط کو تباہ کن قرار دیا ہے۔

بھارتی نیسکام نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے یہ امریکی اعلان بھارتی ٹیکنالوجی سروسز کو نقصان پہنچائے گی جو امریکی صنعتی اداروں اور کمپنیوں کو افرادی قوت فراہم کرتی ہیں۔

خیال رہے امریکی انتظامیہ نے ہفتے کے روز یہ عندیہ دیا ہے کہ ٹیکنالوجی سے متعلق کمپنیوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی ایچ ون بی ویزوں کے لیے درخواستوں کے ساتھ ایک لاکھ ڈالر کی فیس وصول کی جائے گی۔ امریکہ انتظامیہ کا یہ منصوبہ جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کی جانب سے ویزا کی نئی فیس کے نام سے سامنے لایا گیا ہے۔

اس نئے منصؤبے کے انکشاف کے ساتھ ہی بڑی امریکی کمپنیوں نے امریکہ سے باہر موجود اپنے کارکنوں کو فوری واپس امریکہ پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ تاکہ اس بارے میں کسی بھی فیصلے سے پہلے یہ سب کارکن امریکہ میں ہی موجود ہوں۔

امریکی انتظامیہ کی طرف سے ملکی ویزا پالیسی خصوصا تکنیکی مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ویزا پالیسی میں اس بڑی تبدیلی کے نتیجے میں ملک میں عارضی طور روزگار کےلیے ویزوں کے اجرا کا پورا نظام بدل جائے گا۔

یاد رہے اس بڑے خطرے کو محسوس کرتے ہی بھارتی نیسکام نے اپنا فوری رد عمل دیا ہے۔ اس ادارے کے تحت 283 ارب ڈالر مالیت کی ڈیلز عالمی سطح پر کی جاتی ہیں۔ اس ویزا پالیسی کے بدلے جانے سے بھارتی کمپنیوں کو افرادی قوت کی مشکلات کا اندیشہ ہوگا۔ خدشہ ہے کہ ملک کے جاری آئی ٹی منصوبے بھی متاثر ہوں گے اور ٹیکنالوجی سروسز بھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے مطابق مائیکروسافٹ ، جے پی مورگن اور ایمازون کی طرف سے ایچ ون بی ویزا رکھنے والے کارکنوں کو ای میل بھیجی گئی ہے۔ ای میل میں کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ میں ہی رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں