.

لیبیا میں القاعدہ کا خطرناک لیڈر اپنے متعدد ساتھیوں سمیت ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج نے جمعہ کے روز جنوبی شہر سبھا میں ایک کارروائی کے دوران القاعدہ کے خطرناک کمانڈر ابو طلحہ اللیبی اور اس کے متعدد ساتھیوں کو آپریشن میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبی فوج کے ترجمان احمد المسماری نے ایک بیان میں کہا کہ انتہائی خطرناک القاعدہ کمانڈر ابو طلحہ اللیبی اور اس کے دو دیگر ساتھیوں جن میں ایک مصری شامل ہے سمیت ہلاک کر دیا گیا۔ دوسرے شدت پسندوں‌ کی شناخت عبداللہ الدسوقی اور مہدی دنقو کے نام سے کی گئی ہے۔ الدسوقی مصر سے تعلق رکھتا ہے جب کہ دنقو جو ابو برکات کی کنیت سے مشہور ہے داعش سے بھی منسلک رہ چکا ہے۔

ابو طلحہ اللیبی کو جمعہ کو علی الصباح سبھا شہر میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ساحلی علاقے القرضہ میں ہلاک کیا گیا۔

ابو طلحہ اللیبی مقامی سطح پر ابو طلحہ الحسناوی کے نام سے بھی مشہور رہا ہے مگر اس کا اصل نام عبدالمنعم سالم خلیفہ بلحاج بتایا جاتا ہے جس کی پیدائش سنہ 1971ء کی ہے۔

سنہ 1996ء میں اب طلحہ اللیبی کو سابق لیڈر معمر القذافی پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

سنہ 2013ء میں اللیبی شام چلا گیا جہاں اس نے اسد رجیم کے خلاف لڑنے والے "کتیبہ المھاجرین" میں شمولیت اختیار کی۔ القاعدہ کی وفاداری میں لڑنے والے اس گروپ میں کئی مقامی جنگجو شامل تھے۔ اس نے شام میں النصرہ محاذ پر کی بنیاد رکھی۔