نیوزی لینڈ میں مساجد میں دہشت گردی کا مرتکب نوبل امن انعام کا امیدوار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جمعہ کے روز نیوزی لینڈ میں انتہائی بے رحمی اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مساجد میں نماز جمعہ کی ادائی میں مصروف 50 نمازیوں کو شہید کرنے ولے دہشت گرد 'برنٹن ٹرنٹ' نے امید ظاہر کی ہے کہ قید کی سزا کے بعد سے امن کا نوبل انعام ملے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائیسٹ چرچ میں دو مساجد میں 50 نمازیوں کو شہید کرنے سے قبل اس نے'فیس بک' پر The Great Replacement کے عنوان سے75 صفحات پر مشتمل ایک بیان پوسٹ کیا۔ اس بیان میں کہاں اس نے مسلمانوں اور پناہ گزینوں کے خلاف اپنی نفرت کا کھل کا اظہار کیا وہیں مسلمانوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے توقع ظاہر کی اگر اس کے ہاتھوں کچھ مسلمان مارے جاتے ہیں تو اس پراسے زیادہ سے زیادہ 27 سال قید کی سزا ہوگی۔ رہائی کے بعد اسے امن کا نوبل انعام دیا جائے گا۔ اس نے اشارۃ خود کو جنوبی افریقا کے نسل پرستانہ نظام کے خلاف جدو جہد کرنے والے ہیرو نیلسن مینڈیلا کے ساتھ تشبیہ دی۔ وہ بھی 27 سال قید رہے اور رہائی کے بعد انہیں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔

اپنے بیان میں آسٹریلوی دہشت گرد نے لکھا ہے کہ اس نے ناروے کے انتہا پسند Anders Behring Breivik بھی رابطہ کیا۔ غالبا ٹرنٹن کا کا اس کے ساتھ رابطہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہوا ہوگا۔ اینڈرس بیرنگ نے بھی 1500 صفحات پر مشتمل ایک طویل بیان پوسٹ کیا جس کے بعد اس نے ناروے کی تاریخ میں بدترین قتل عام کا ارتکاب کیا تھا۔

یہ 22 جولائی 2011ئ کا واقعہ ہے جب اینڈرس نے 29سال کی عمر میں اوسلو میں بارود سے بھری ایک کار سے دھماکہ کرکے 8 افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس کے بعد اس نے پولیس کا یونیفارم پہنا ناروے کے اقصیٰ جنوب میں واقع'اوٹویا' جزیرے پر پہنچا۔ وہاں پر لیبر پارٹی کے 700 کارکن کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 69 افراد ہلاک ہوگئے۔ اسے حراست میں لے کرمقدمہ چلایا گیا اور اسے صرف 21 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

برطانوی اخبار'ٹائمز' نے انٹیلی جنس ادارے 'MI6 ' کے حوالے سے بتایا ہے کہ لگتا ہے کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے والے شخص کے حامی برطانیہ میں‌بھی موجود ہیں۔ یہ شک اس لیے بھی پیدا ہوا کیونکہ نمازیوں کے قتل عام ملوث آسٹریلوی دہشت گرد نے اپنے طویل بیان میں لندن کے پاکستانی نژاد مسلمان میئر صادق خان کے قتل پر اکسانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈکی نسبت برطانیہ میں مسلمانوں اور مساجد کی تعداد بھی ہہت زیادہ ہے۔ برطانیہ کی 67 ملین آبادی میں 1500 مساجد ہیں جب کہ مسلمانوں کی تعداد 27 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں نیوزی لینڈ کی آبادی 50 لاکھ ہے جس میں مسلمان صرف 50 ہزار ہیں اور مساجد کی تعداد 40 ہے۔

جمعہ کے روز نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کا یہ واقعہ Linwood شہر کی ایک مسجد سے شروع ہواجس میں 8 نمازی شہید ہوگئے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد کرائیسٹ چرچ کی مسجد النور میں 42 مسلمان نمازیوں کو شہید کردیا گیا۔ اسی مسجد میں شہید ہونے والے ایبٹ آباد کے نعیم رشید بھی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نعیم رشید نے نمازیوں پر اندھا دھند گولیاں برسانے والے دہشت گرد سے بندوق چھیننے کی کوشش کی مگر وہ اور اس کا 21 سالہ بیٹا طلحہ دونوں دہشت گرد کی گولیوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں