.

روہنگیا پناہ گزینوں کو بنگلہ دیش کے ایک دور افتادہ جزیرے پر منتقل کرنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش میں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کو ایک دور افتادہ جزیرے پر منتقل کرنے کا منصوبہ تیارکیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ماہرین نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی دور دراز ساحلی علاقے میں موجود جزیرے پر منتقلی سے ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس خفیہ منصوبے کی تفصیلات خبر رساں ادارے'رائیٹرز' کو ملنے والی دستاویزات سے ملی ہیں۔

مجوزہ طورپر بنگلہ دیش کے جس جزیرے کو روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے منتخب کیا گیا ہے سے مقامی سطح پر جزیرہ 'باسان چار' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی دستاویز کے مطابق روہنگیا پناہ گزینوں کو 'باسان چار' جزیرے پر منتقل کرنے سے کوکس بازار کیمپ پر آبادی کا بوجھ کم کرنےمیں مدد ملے گی۔ یہ جزیرہ خلیج بنگال میں واقع ہے اور بنگلہ دیش میں عارضی طورپرآباد کیے گئے روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کو کشتیوں کی مدد سے چند گھنٹے کے فاصلے کے بعد اس جزیرے پر منتقل کیا جاسکے گا۔

انسانی حقوق اور امدادی سرگرمیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں‌ نے پناہ گزینوں کو ایک نئے جزیرے پرمنتقل کرنے کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس جزیرے پر روہنگیا مسلمانوں کو منتقل کیا جا رہا ہے وہاں پر بنیادی سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں۔ اس کے علاوہ وہاں پر سیلاب کا ہروقت خطرہ رہتا ہے۔ حتیٰ کہ سمندر کی لہریں کسی بھی وقت اس جزیرے پر چڑھائی کرسکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگہ دیش کی حکومت نے پناہ گزینوں کی باسان چار جزیرے پر منتقلی کے لیے ایک مفصل منصوبہ تیار کیا ہے جس کے ٹائم فریم اور بجٹ کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ منصوبے پرعمل شروع ہونے کے بعد چند ہفتوں کے اندر اندر پناہ گزینوں کو جزیرے پر منتقل کردیا جائے گا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ باسان میں منتقلی جبری نہیں بلکہ رضاکارانہ طورپرہوگی اور اس کے لیے بنیادی انسانی حقوق اور اقدار کا خیال رکھا جائے گا۔ اس منصوبے کے حوالے سے بنگلہ دیش کی حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ خورک کے درمیان بات چیت بھی جاری ہے۔