.

برطانیہ : پارلیمنٹ میں "بريگزٹ" کے متبادل تمام آپشنز مسترد

وزیراعظم کا مستعفی ہونے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں پارلیمنٹ کے ارکان نے "بریگزٹ" کے متبادل آٹھ آپشنز کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ان آپشنز کا مقصد یورپی یونین سے نکلنے کے سمجھوتے سے متعلق سنگین بحران کو ختم کرنا تھا۔ یہ سمجھوتا برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اور یورپی کمیشن کے درمیان طے پایا تھا تاہم برطانیہ پارلیمنٹ نے اسے قبول نہیں کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جن آپشنز پر ووٹنگ ہوئی ان میں بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے ساتھ زیادہ قریبی اقتصادی تعلقات، کسی بھی طے پائے جانے والے معاہدے پر عوامی رائے شماری کرانا یا پھر بریگزٹ کے عمل کو مکمل طور پر روک دینا شامل ہے۔

ادھر وزیراعظم تھریسا مے نے کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ وہ بریگزٹ مذاکرات کے "اگلے مرحلے" سے قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ خاتون وزیراعظم کے اس ارادے کا انکشاف کنزرویٹو پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے کیا۔

تھریسا مے کے دفتر کے مطابق 22 مئی کے بعد یہ معلوم ہو گا کہ پارلیمنٹ میں بریگزٹ سمجھوتا زیر بحث رہنے کی صورت میں یورپی یونین سے نکلنے کے آئندہ مرحلے میں خاتون وزیراعظم کا جانشیں کس کو چنا جائے گا۔

اس سے قبل برطانوی پارلیمنٹ نے 302 ووٹوں کے مقابل 329 ووٹوں سے ایک ترمیم کی منظوری دی تھی۔ یہ ترمیم ارکان پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے حوالے سے ممکنہ آپشنز پر سلسلہ وار ووٹنگ کا انعقاد کریں۔

بریگزٹ کے امور سے متعلق برطانوی وزارت نے ارکان پارلیمنٹ کی اس ترمیم کے لیے ووٹنگ کی فوری طور پر مذمت کی ،،، اور اسے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتائج کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔