.

بھارت :راہول گاندھی نے ریاست کیرالا سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرادیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے جنوبی ریاست کیرالا کے ضلع ویاناڈ میں بھی جمعرات کو پارلیمان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کی نشست کا انتخاب لڑنے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔

بھارت میں عام انتخابات چار مراحل میں ہورہے ہیں اور آیندہ جمعرات کو پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ راہول گاندھی اپنی آبائی نشست ریاست اتر پریش کے شہر امیٹھی سے بھی لوک سبھا کے امیدوار ہیں۔ انھوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں یہاں ایک پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ یہ کہ جنوبی بھارت ایک اہم خطہ ہے’’۔

اس موقع پر کرشماتی شخصیت کی مالک ان کی بہن پریانکا گاندھی وڈرا بھی ان کے ساتھ تھیں۔انھوں نے اس سال جنوری ہی میں بھارت کی سیاست میں فعال انداز میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا اور کانگریس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے سیاست میں آنے سے اس مرتبہ جماعت کو فائدہ پہنچے گا۔

رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق کانگریس وزیراعظم نریندر مود ی کی بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) سے انتخابی دوڑ میں پیچھے ہے۔ البتہ کانگریس نے گذشتہ سال دسمبر میں چار ریاستوں میں منعقدہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا تھا اور اس کی اس انتخابی کارکردگی کے پیش نظر یہ کہا جارہا ہےکہ وہ عام انتخابات میں بی جے پی کی ایک مشکل حریف ثابت ہوگی۔

مودی کی بی جے پی کو بھارت کی شمالی اور مغربی ریاستوں میں ووٹروں کی حمایت حاصل ہے ۔البتہ اس نے جنوبی ریاستوں میں علاقائی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد بنایا ہے۔واضح رہے کہ ریاست کیرالا میں مسلمان اور عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ مسلمان ریاست کی کل آبادی تین کروڑ 34 لاکھ کا 27 فی صد ہیں جبکہ عیسائیوں کی تعداد 18 فی صد ہے۔

کانگریس وزیراعظم مودی اور ان کے اتحادی دائیں بازو کے ہندو انتہا پسند گروپوں پر مسلمانوں پر حملوں کے لیے متعصبانہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا الزام عاید کررہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ اس ایجنڈے کے تحت نصابی کتب کو تبدیل کررہی ہے تاکہ قومی شناخت کو ان کے اپنے نقطہ نظر کے مطابق بنایا جاسکے۔اس کے تحت بھارت صرف ہندوؤں کا دیس ہے اور اس میں دوسری اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

راہول گاندھی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ جنوبی بھارت میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس (راشٹریہ سویک سنگھ) جس طرح حکومت کررہے ہیں ، اس سےان کی ثقافت ، زبان اور تاریخ حملے کی زد میں ہیں‘‘۔

راہول گاندھی ، نہرو –گاندھی خاندان کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1947ء میں انگریز سے آزادی کے بعد سے بھارت کی تاریخ میں اس خاندان ہی نے زیادہ عرصہ حکومت کی ہے۔ان کے والد آنجہانی راجیو گاندھی ، دادی اندرا گاندھی ،والد کے نانا جواہر لال نہرو بھارت کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔راجیو اور ان کی والدہ اندرا گاندھی دونوں امیٹھی کے حلقے سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوتے رہے تھے۔

بھارتی آئین کے تحت کوئی بھی امیدوار ایک سے زیادہ نشستوں سے امیدوار بن سکتا ہے ۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی کو صرف امیٹھی سے اپنی جیت کا یقین نہیں تھا ،اس لیے وہ اب کیرالا سے بھی انتخاب لڑرہے ہیں جبکہ نریندر مودی نے خود 2014ء میں دو نشستوں سے انتخاب لڑا تھا۔ وہ شمال میں وارانسی اور مغربی ریاست گجرات میں واڈو ڈارا دونوں نشستوں سے منتخب ہوگئے تھے۔