.

پوپ فرانسس نے جنوبی سوڈان کے سیاسی قائدین کی قدم بوسی کیوں کی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویٹی کن میں پوپ فرانسس نے جمعرات کے روز جنوبی سوڈان کے سیاسی رہ نماؤں کو اُس وقت حیران کر ڈالا جب انہوں نے امن اور استحکام برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے ان رہ نماؤں کی قدم بوسی کر ڈالی۔ یہ دیکھ کر مذکورہ رہ نما خاموش اور ششدہ رہ گئے۔

یہ واقعہ جمعرات کے روز پوپ کی قیام گاہ پر منعقد روحانی گوشہ نشینی کی مجلس کے اختتام کے بعد پیش آیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ستمبر میں جنوبی سوڈان میں سیاسی رہ نماؤں نے اقتدار کی تقسیم کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر اور اپوزیشن رہ نما رک مشار 82 سالہ پوپ فرانسس کی دعوت پر روحانی گوشہ نشینی کی مجلس میں شرکت کے لیے ویٹی کن پہنچے تھے۔ العربیہ کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی وڈیو میں پوپ فرانسس کو اپنے دو معاونین کے سہارے سے جھکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مذکورہ دونوں شخصیات اور تین دیگر ارکان پارلیمنٹ کے قدموں کو بوسہ دیا۔ اس موقع پر جنوبی سوڈان اور افریقی ممالک کی کئی چیدہ شخصیات موجود تھیں۔

جنوبی سوڈان کے عوام کو کئی دہائیوں تک تنازع کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد 2011 میں انہیں خود مختاری ملی۔ تاہم خود مختاری حاصل ہونے کے بعد دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ صدر سلوا کیر نے اپنے نائب رک مشار کو برطرف کر دیا۔ اس کے نتیجے میں بھڑکنے والی خانہ جنگی کی آگ نے 4 لاکھ افراد کی جانیں لے لیں۔ اس دوران ملک کی ایک تہائی آبادی بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو گئی۔