سوڈان کی عبوری فوجی کونسل تمام جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے: جنرل البرہان

معزول صدر عمر البشیر احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنا چاہتے تھے: العربیہ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ ان کا حزب اختلاف کے اتحاد کے ساتھ کوئی تنازع نہیں اور کونسل تمام دوسری جماعتوں سے مزید مکالمے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ اجتماعی دانش کو بروئے کار لانے کا مثبت نتیجہ برآمد ہوگا اور ہر کوئی اس سے مطمئن ہوگا۔اس وقت کوئی تنازع نہیں ہے اور تمام جماعتوں کا ایک ہی مقصد ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم فوجی کونسل میں شفافیت سے کام کررہے ہیں ،اس وقت ہماری کوئی حتمی رائے نہیں ہے لیکن ہم تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے خواہاں ہیں‘‘۔

عبوری فوجی کونسل نے سوڈان کی حزب اختلاف کے اتحاد سے ہفتے کے روز مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ ان کے درمیان ملک کا نظم ونسق چلانے کے لیے ایک عبوری انتظامیہ کی تشکیل پر جلد اتفاق رائے ہوجائے گا۔

جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا کہ فوجی کونسل معزول صدر عمر حسن البشیر کے خلاف تحریک میں پیش پیش اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں کردار کو تسلیم کرتی ہے ۔تاہم انھوں نے تمام دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بات چیت کا عمل شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے العربیہ سے ہفتے کے روز نشر ہونے والے انٹرویو میں بتایا کہ معزول صدر عمر البشیر احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران میں فوجی طاقت استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن مسلح افواج نے شہریوں کے مسائل ومصائب کے خاتمے کے لیے مداخلت کی ا ور فوری اقدام کرتے ہوئے انھیں چلتا کیا۔

جنرل البرہان نے بتایا کہ ’’ معزول صدر اور سابق رجیم کی بہت سی شخصیات اس وقت کوبر جیل میں بند ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے‘‘۔ان کے زیر کمان عبوری فوجی کونسل نے بعض سابق اعلیٰ عہدے داروں کو برطرف کرنے کے بعد گرفتار کر لیا تھا اور ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزا مات میں تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

فوجی کونسل کے ترجمان نے دو روز پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ کونسل صرف خود مختار اتھارٹی اپنے پاس رکھے گی اور وزارت ِعظمیٰ کا عہدہ اور تمام وزارتیں سویلین کے حوالے کردے گی ۔ کابینہ کا سربراہ، حکومت اور انتظامی اختیارمکمل طور پر سویلین کے پاس ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں