.

سوڈان:عبوری فوجی کونسل نے اسلامی جماعت پرمظاہرین کے حملے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈا ن میں احتجاجی تحریک کے لیڈروں نے اتوار کے روز عبوری حکمراں فوجی کونسل کی قیادت سے ملاقات کی ہے جبکہ فوج نے معزول صدر عمر حسن البشیر کی ایک سابق اتحادی اسلامی جماعت پر مظاہرین کے حملے کی مذمت کی ہے۔

گذشتہ روز بیسیوں مظاہرین نے خرطو م میں اسلامی جماعت پاپولر کانگریس پارٹی کی جلسہ گاہ ایک عمارت کے باہر جمع ہوکر نعرے بازی کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اسلام پسندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ان مظاہرین کی کانگریس پارٹی کے کارکنان سے جھڑپیں بھی ہوئی تھیں ۔ سوڈان کی سرکاری خبررسان ایجنسی سونا نے اس جماعت کے رہ نما ادریس سلیمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں ان کے 64 کارکنان زخمی ہوگئے تھے۔

یہ جماعت 1990ء کے عشرے میں سوڈان کے ایک اہم اسلامی رہ نما حسن ترابی نے قائم کی تھی۔انھوں نے 1989ء کی فوجی بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کے نتیجے میں عمر حسن البشیر منتخب حکومت کو معزول کرکے اقتدار میں آئے تھے لیکن انھیں بھی اسی طرح فوج کے ہاتھوں معزول ہونا پڑا ہے جبکہ ان کے مطلق العنان طرز عمل کے بعد حسن ترابی نے ان سے اپنی راہیں جد ا کر لی تھیں۔

درایں اثناعبوری فوجی کونسل نے سوڈان کی حزب اختلاف کے اتحاد سے ہفتے کے روز مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ ان کے درمیان ملک کا نظم ونسق چلانے کے لیے ایک عبوری انتظامیہ کی تشکیل پر جلد اتفاق رائے ہوجائے گا۔تاہم حزبِ اختلاف کے گروپوں پر مشتمل اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی عبوری فوجی کونسل سے فوری انتقال اقتدار کا مطالبہ کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مجوز ہ عبوری کونسل میں فوج کی محدود نمایندگی ہونی چاہیے۔

مگر فوج نے مظاہرین کی قیادت سے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ وہ عبوری کونسل میں شہریوں کو ’’ متناسب‘‘ نمایندگی دینے کو تیار ہے اور وہ انتظامی اختیارات بھی مجوزہ شہری حکومت کو سونپ دے گی۔اس کا کہنا ہے کہ وہ معزل صدر بشیر کی نیشنل کانگریس پارٹی کے سوا تمام سیاسی دھڑوں سے مذاکرات کررہی ہے ۔

واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کو مظاہرین کے لیڈروں نے فوجی کونسل کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا اور اس پر معزول صدر عمر البشیر کے رجیم ہی کی توسیع ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا حزب اختلاف کے اتحاد کے ساتھ کوئی تنازع نہیں اور کونسل تمام دوسری جماعتوں سے مزید مکالمے کے لیے تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہم فوجی کونسل میں شفافیت سے کام کررہے ہیں ،اس وقت ہماری کوئی حتمی رائے نہیں ہے اور ہم تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے خواہاں ہیں‘‘۔

جنرل البرہان کے بہ قول فوجی کونسل معزول صدر عمر حسن البشیر کے خلاف تحریک میں پیش پیش اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں کردار کو تسلیم کرتی ہے ۔تاہم انھوں نے تمام دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بات چیت کا عمل شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔