.

سعودی شہری سری لنکا میں نقاب پر پابندی کے فیصلے کا احترام کریں

کولمبو میں سعودی سفارت خانے نے سری لنکا جانے والے شہریوں کے لیے ہدایات جاری کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سری لنکا میں سعودی سفارت خانے نے ایک بیان میں اپنے شہریوں کو سری لنکن حکام کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔

ٹویٹر پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ "دوست ملک سری لنکا میں ہنگامی حالات کے پیش نظر سری لنکا میں سعودی سفارت خانہ سعودی شہریوں کو اُن اقدامات کے حوالے سے متنبہ کرنا چاہتا ہے جو سری لنکن حکام نے حال ہی میں اٹھائے ہیں۔ حالیہ افسوس ناک دہشت گرد حملوں کے بعد ایمرجنسی کے قانون کے تحت مؤرخہ 29 اپریل پیر کے دن سے چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی ہو گی تا کہ شناخت ظاہر ہو سکے۔"

سعودی سفارت خانے نے اپنے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سری لنکا کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے نظام اور قوانین کی پاسداری کریں۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں ایسٹر کے روز ہلاکت خیز دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نپٹنے کی کوششوں کے جلو میں دہشت گردی کے شکار اس ملک میں خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

صدر میتھری پالا سیریسنا نے ہنگامی قوانین کے تحت خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ پابندی گذشتہ روز عاید کی گئی۔ یہ حکم نامہ ان خودکش حملوں کے لگ بھگ ایک ہفتہ بعد کیا گیا ہے جس میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ اس اقدام سے سیکورٹی فورسز کو لوگوں کی شناخت میں مدد ملے گی۔ سیکورٹی اہل کار دھماکوں کے ذمہ داروں کی تلاش مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی اسکالرز کی اعلیٰ ترین تنظیم نے سیکورٹی خدشات کی بنا پر قلیل عرصے کے لیے اس اقدام کی حمایت کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ برقعہ پہننے کے خلاف کسی بھی قانون سازی کی مخالفت کریں گے۔

امریکا نے کہا ہے کہ وہ سری لنکا میں دہشت گردی کے سلسلے میں حکومتی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ صرف ایسٹر حملے کی چھان بین اور ذمہ داروں کی تلاش کے لیے ایمرجینسی کے نفاذ کی حمایت کرتا ہے۔ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔