.

جرمنی: مذہبی اداروں کے غیر ملکی عطیات کے توڑ کے لیے ’’ مسجد ٹیکس‘‘ لگانے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں اسلامی اداروں کے غیرملکی عطیات پر انحصار کم کرنے کے لیے ’’مسجد ٹیکس‘‘ لگانے پر غور کیا جارہا ہے اور ملک کی بیشتر ریاستوں نے اس ٹیکس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

جرمن اخبار ویلٹ اور سونتاگ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا ہے کہ’’یہ (ٹیکس) ایک ممکنہ راستہ ہے‘‘۔اخبار نے لکھا ہے کہ یہ ٹیکس بھی جرمنی کے عیسائیوں پر عاید کردہ ’’ چرچ ٹیکس‘‘ کے مشابہ ہوگا اور سولہ ریاستوں میں سے بیشتر نے اصولی طور پر اس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

جرمنی میں مساجد کے لیے غیرملکی رقوم اور عطیات کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور انھیں ملک کی قریباً پچاس لاکھ مسلم آبادی پر ا ثر انداز ہونے کا ایک ذریعہ خیال کیا جاتا ہے۔جرمنی میں زیادہ تر ترک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن آباد ہیں۔

جرمنی میں قریباً 900 مساجد ترکی کی اسلامی یونین برائے مذہبی ادارہ کے زیر انتظام ہیں۔ یہ ادارہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ان مساجد کے ائمہ کو ترک ریاست تن خواہیں ادا کرتی ہے لیکن اس اسلامی یونین کے بعض ارکان کے بارے میں یہ شُبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ جرمنی میں مقیم ترک حکومت کے مخالفین کی جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہیں۔

واضح رہے کہ جرمنی اور ترکی کے درمیان 2017ء میں اختلافات نے شدت اختیار کرلی تھی اور دو جرمن وزراء نے اسپیگل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’صدر ایردوآن کے خطرناک نظریات کو بعض مساجد کے ذریعے جرمنی میں درآمد نہیں کیا جانا چاہیے‘‘۔

حالیہ برسوں کے دوران میں جرمنی میں بعض مساجد میں سخت گیر یا جہادی نظریات کی تشہیر پر پولیس نے چھاپا مار کارروائیاں بھی کی ہیں اور ان میں سے بعض مساجد کو اس الزام میں بند بھی کردیا گیا تھا۔

ویلٹ اور سونتاگ نے لکھا ہے کہ اس کے اپنے ایک سروے میں بعض ریاستوں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ جرمنی میں مسلم کمیونٹیوں کو اپنے اخراجات خود پورے کرنا چاہییں۔ایک ریاست میکلنبرگ مغربی پومرنیا کی وزارت داخلہ کا کہناہے کہ وہ چرچ ماڈل کے طرز پر مسجد کو رقوم مہیا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ غیرملکی اثرات کو کم کیا جاسکے اور سخت گیری کے ممکنہ خطرات سے بھی بچا جاسکے۔

ریاست بیڈن وورٹمبرگ کے ترجمان نے بھی مذہبی مواد اور سیاسی آراء پر غیرملکی اثرات کی نشان دہی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کی بُری مثال تو سخت گیر اسلامسٹ یا جمہوریت مخالف مواد اور خواہشات ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں جرمنی کے ایک مقامی اخبار نے جنرل انٹیلی جنس ایجنسی اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ ان کے نزدیک مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون سے وابستہ گروپ سخت گیر جنگجو تنظیموں داعش اور القاعدہ کی نسبت جرمنی کی جمہوریت کے لیے زیادہ خطرناک ہیں۔جرمن انٹیلی جنس اور سکیورٹی ذرائع نے بالخصوص ریاست نارتھ رہین ویسٹ فالیا میں الاخوان المسلمون سے وابستہ مساجد یا تنظیموں میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔