جرمن حکومت ایران اور جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ جرمن اخبار زیتوشے کے مطابق جرمن وزارت خارجہ کے پولیٹیکل ڈائریکٹر ینس بلوٹنر نے جمعرات کے روز تہران کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس اراگشی سے ملاقات میں جوہری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔ اراگشی سال 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے۔

جرمن وزارت خارجہ کے مطابق خلیج اور خطے میں صورت حال "نہایت خطر ناک" ہے۔ اسی طرح 2015 مین ویانا میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدہ بھی خطرے میں ہے۔

حالیہ عرصے میں جرمن پارلیمنٹ میں یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ حکومت اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔ اس سلسلے میں Alliance 90 / The Greens پارٹی کی خارجہ پالیسی کے ایرانی نژاد ترجمان امید نوری پور نے جرمن وزیر خارجہ ہائکو ماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "جلد" تہران کا سفر کریں۔ نوری پور نے جرمن جریدے اشیگل سے گفتگو میں کہا کہ بحران کے حوالے سے سفارت کاری کے لیے براہ راست بات چیت ضروری ہے۔ انہوں نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو جوہری معاہدے میں باقی رکھنے کے لیے انتہائی کوششیں بروئے کار لائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں