.

کیا ماؤنٹ ایورسٹ پر ’’رش‘‘ کوہ پیماؤں کی موت کا باعث بن رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی مہم کے دوران ایک اور امریکی کوہ پیما ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد گذشتہ 10 دنوں کے دوران ماؤنٹ ایورسٹ پر مرنے والے کوہ پیماؤں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جان کی بازی ہارنے والے کرسٹوفر کولش کا تعلق ریاست کولوراڈو سے تھا اور ان کی عمر 61 سال تھی۔وہ پیر کو 8848 میٹر بلند ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد چوٹی سے اترتے وقت موت کا شکار ہوئے۔ ان کی موت کا سبب سخت سردی اور تھکن بتایا جا رہا ہے۔

کولش 10 روز میں مرنے والے دوسرے امریکی کوہ پیما ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے ڈون کیش بھی چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔

رواں سیزن میں ہلاک ہونے والے دیگر کوہ پیماؤں کا تعلق برطانیہ، آئرلینڈ، نیپال، بھارت اور آسٹریا سے تھا۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیزن میں مرنے یا لاپتا ہوجانے والے کوہ پیماؤں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

نیپال کے محکمۂ سیاحت کے ایک افسر میرا اچاریہ کے مطابق رواں سیزن میں اموات کی ایک بڑی وجہ تھکاؤ، سخت موسم اور چوٹی سر کرنے کے خواہش مند کوہ پیماؤں کی لمبی قطار ہے جس کی وجہ سے کوہ پیماؤں کو بعض اوقات 12، 12 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے جس سے تھکن میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

حکام کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے لیے سازگار سیزن ختم ہونے میں بھی اب صرف کچھ ہی دن رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد جلد از جلد یہ مشن پورا کرنے کی خواہش مند ہے۔

امریکی کوہ پیماہ کرسٹوفر نے چوٹی سر کرنے کے لیے روایتی ساؤتھ ایسٹ رِج روٹ چنا تھا جب کہ وہ چوٹی سے 'ساؤتھ کول روٹ' کہلانے والے راستے سے اتر رہے تھے جس پر ان کی موت واقع ہوئی۔ پہلی مرتبہ اس روٹ کو نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے سر ایڈمنڈ ہیلری اور نیپالی کوہ پیما شرپا تینزنگ نورگے نے 1953ء میں اختیار کیا تھا۔

ماؤنٹ ایورسٹ کو نیپال کے علاوہ چین کے علاقے تبت کی جانب سے بھی سر کیا جاتا ہے۔ حالیہ سیزن میں اب تک تبت کی جانب سے چوٹی سر کرنے کی خواہش رکھنے والے دو کوہ پیماؤں کے بھی مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

رواں سیزن کے دوران نیپالی حکام نے ریکارڈ 381 کوہ پیماؤں کو چوٹی سر کرنے کی اجازت دی تھی جب کہ 130 دیگر کوہ پیماؤں کو تبت کی شمالی جانب سے ایورسٹ سر کرنے کی اجازت دی گئی تھی

نیپال کے محکمۂ سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈانڈو راج گھمیر کا کہنا ہے کہ لمبی قطار لگنے کا سبب یہ ہے کہ ایک تو پہاڑ پر چڑھنے کے لیے مناسب موسم کا دورانیہ اس سال بہت قلیل رہا جس کے سبب زیادہ ترکوہ پیماؤں کی یہ کوشش تھی کہ وہ اسی قلیل مدت میں چوٹی کو سر کرلیں۔

ماہر کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے جو چھ اموات ہوئی تھیں ان کی وجہ آکسیجن کی کمی ہوسکتی ہے۔انتہائی بلندی پر آکسیجن کی کمی کے باعث کوہ پیما سر درد، قے یا متلی، سانس میں گھٹن کا شکار ہونے کے علاوہ ذہنی طور پر مفلوج بھی ہوسکتے ہیں جس کے سبب بیشتر کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

اب تک پانچ ہزار کوہ پیما دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرچکے ہیں جب کہ 300 افراد اسے سر کرنے کی مہم کے دوران یا تو راستے میں ہی پہاڑی سے پھسل کر مارے جا چکے ہیں یا لاپتا ہوئے ہیں۔