.

دباؤ کے باوجود تہران کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی : امریکی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے قائمقام وزیر دفاع پیٹرک شنہن نے باور کرایا ہے کہ گزشتہ ایام کے دوران دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود ان کے ملک کو ایران کے برتاؤ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

بدھ کے روز ایشیائی دورے کے سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شنہن نے انکشاف کیا کہ خلیج بھیجی جانے والی اضافی امریکی فورسز کو سعودی عرب اور قطر میں تعینات کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی چیف آف اسٹاف جوزف ڈنفورڈ نے بدھ کے روز زور دے کر کہا کہ تہران کو جواب دینے کے حوالے سے واشنگٹن تساہل سے ہر گز کام نہیں لے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہماری کوئی بھی جوابی کارروائی ایرانی اشتعال انگیزی کے حجم کی مناسبت سے ہو گی"۔

ڈنفورڈ نے باور کرایا کہ خلیج میں ایرانی خطرات پر روک لگانے کے لیے امریکا کی جانب سے کیے جانے والے عسکری اقدامات ،،، تہران کی جانب سے سلسلہ وار حملوں اور اشتعال انگیزی کی منظم مہم کے بعد سامنے آئے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہو گیا جب امریکا نے ایران کی جانب سے خطرات کے سبب طیارہ بردار بحری جہاز اور "B-52" بم بار طیاروں کو خلیج بھیج دیا۔ اسی طرح واشنگٹن نے مشرق وسطی میں 1500 فوجیوں کو بھیجنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔