.

یورپ کے انتباہ کے باوجود ترکی کا قبرص کے مقابل قدرتی گیس کی تلاش کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر توانائی فتحی سونمیز کے اعلان کے مطابق ترکی کا دوسرا بحری جہاز آئندہ چند روز میں قبرص مقابل سمندر میں تیل اور قدرتی گیس کی تلاش کا کام شروع کر دے گا۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے ترکی اور قبرص کے درمیان تعلقات کے تناؤ میں اضافہ ہو گا جو بحیرہ روم کے مشرق میں تیل اور قدرتی گیس کی قانونی فیلڈز کے حوالے سے اختلافات کے سبب بگاڑ کا شکار ہیں۔

ترک وزیر توانائی کا یہ بیان یورپی یونین کے اُن انتباہات کے باوجود سامنے آیا ہے جن میں ترکی کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ متنازع سمندری زون میں قدرتی گیس کی تلاش کی کارروائیاں روک دی جائیں ،،، تا کہ یورپی یونین کے ممالک انقرہ کے خلاف اقدامات پر مجبور ہ ہو جائیں۔

یورپی یونین کے ذمے داران کی جانب سے یہ دھمکیاں یونان اور قبرص کے دباؤ کے جواب میں سامنے آئیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک اس معاملے میں مداخلت کریں۔ گذشتہ ماہ ترکی کے بحری جہاز "فاتح" نے قبرص کے ساحلوں کے مقابل ڈرلنگ اور تلاش کی سرگرمیاں انجام دی تھیں۔ اس کے نتیجے میں قبرص کے حکام جہاز کے عملے کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر مجبور ہو گئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ انقرہ جو قبرص کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا، اُس کا دعوی ہے کہ قبرصی ساحلوں کے مقابل بعض سمندری علاقے ترکی کے یا ترک قبرصیوں کے زیر انتظام آتے ہیں۔ یہ علاقے خصوصی اقتصادی زون یعنی Exclusive Economic Zone (EEZ) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ترک قبرصیوں نے جزیرہ قبرص کے شمال میں ایک علاحدہ ریاست بنا لی ہے۔ اس ریاست کو ترکی کے سوا کوئی تسلیم نہیں کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی کے حملے کے بعد 1974 میں قبرص کی تقسیم عمل میں آئی تھی۔

ترکی اور قبرص کے درمیان امن کو یقینی بنانے کے واسطے کی جانے والی بہت سی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

علاوہ ازیں تیل اور قدرتی گیس کی دریافت کے نتیجے میں مذاکراتی عمل پیچیدگی کا شکار ہو گیا ہے۔