امریکا نے ایران کو خلیج میں ڈرون مارگرانے کے بعد کیا دھمکی آمیز پیغام بھیجا تھا؟
امریکا نے خلیج میں گذشتہ ماہ اپنا ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ایرا ن کو دھمکی آمیز بھیجا تھا اور اس کو محدود پیمانے پر ایک حملے کا انتباہ کیا تھا۔
اس بات کا انکشاف ایران کے محکمہ شہری دفاع کے سربراہ اور سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل غلام رضا جلالی نے اتوار کو ایک بیان میں کیا ہے۔نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق غلام رضا جلالی نے کہا ہے کہ ’’ امریکا نے اپنے درانداز ڈرون کے گرنے کے بعد ہمیں سفارتی ذرائع سے یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ محدود پیمانے پر ایک آپریشن کرنا چاہتا ہے‘‘۔
’’ لیکن ایران کا ردعمل یہ تھا کہ ہم کسی بھی کارروائی کو جنگ کا آغاز سمجھتے ہیں‘‘۔انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
ایرانی فورسز نے خلیج میں امریکا کا یہ ڈرون مار گرایا تھا ۔اس کے ایک روز بعد ایرانی حکام نے 21 جون کو برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو سلطنت عُمان کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک پیغام موصول ہوا تھا۔ اس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اب ایران کے خلاف ایک حملہ ناگزیر ہوچکا ہے۔تاہم ایرانی اور امریکی حکام نے تب اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔