قطر کی امداد صومالیہ کے لوگوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے : عبدالرحمن عبدالشکور
قطر نے صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو منتقل کرنے کے لیے ایک طیارہ بھیجا ہے۔
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صومالیہ بھیجا جانے والا طیارہ تمام طبی ساز و سامان سے لیس ہے اور اس میں ایک طبی ٹیم بھی موجود ہے۔ طیارے کو بھیجنے کا مقصد موگادیشو میں ہونے والے خود کش حملے میں زخمی ہونے والے 12 افراد کو علاج اور طبی نگہداشت کے واسطے دوحہ منتقل کرنا ہے۔ حملے میں موگادیشو کی بلدیہ کے ذمے داران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب صومالیہ میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعت ودجر پارٹی کے سربراہ عبدالرحمن عبدالشکور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عام طور سے امداد قابل قبول ہوتی ہے اور اس پر کوئی اختلاف نہیں مگر جب یہ امداد اُس صوتی ٹیپ کے اِفشا ہونے کے بعد آئے جو دھماکوں میں قطر کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتی ہے ... تو اس کا مطلب دھماکوں میں دوحہ کے ملوث ہونے کا ضمنی اعتراف ہے۔
عبدالرحمن نے مزید کہا کہ "یہ امداد صومالیوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے ، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ پہلے صومالیہ کے لوگوں پر فائرنگ کر کے ان کا خون بہایا جائے اور پھر ان کے علاج کے لیے منتقلی کے واسطے طیارہ بھیج دیا جائے؟ کیا اس سے قطر کے متضاد مواقف اور دوغلے پن کا انکشاف نہیں ہوتا"۔
اپوزیشن کے رہ نما نے واقعے کے حوالے سے صومالیہ کی پارلیمنٹ سے تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تا کہ اس میں ملوث تمام افراد کا پتہ چلا کر ان کا اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کا کڑا احتساب کیا جا سکے۔ عبدالرحمن کے مطابق قطر سے تعلقات منقطع کیے جائیں اور اس کے خلاف اقوام متحدہ، عرب لیگ اور افریقی یونین میں باقاعدہ شکایات درج کرائی جائیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری آڈیو ٹیپ میں صومالیہ میں ایک شدت پسند تنظیم کا دوحہ کے مفادات کو مضبوط بنانے کی خاطر دھماکے کرانے کا انکشاف ہوا۔
اخبار کے مطابق آڈیو ریکارڈنگ میں امیر قطر کی مقرب ایک کاروباری شخصیت خلیفہ المہندی موگادیشو میں دوحہ کے سفیر سے گفتگو کے دوران یہ انکشاف کر رہی ہے کہ شدت پسندوں نے قطر کے مفادات کو تقویت پہنچانے کے لیے بوصاصو شہر میں دھماکا کیا ہے۔
اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ المہندی نے 18 مئی کو ہونے والے دھماکے کے ایک ہفتے بعد صومالیہ میں دوحہ کے سفیر حسن بن حمزہ بن ہاشم سے گفتگو میں بتایا کہ قطر یہ جانتا ہے کہ ان دھماکوں اور ہلاکتوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔