کیا امریکا ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے پابندیوں میں چُھوٹ کی تجدید کرے گا ؟
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ امریکا رواں ہفتے ایران کے جوہری پروگراموں کے حوالے سے ایک بار پھر پابندیوں میں چھوٹ کا اعلان کرے گا۔ اس طرح روس، چین اور یورپی ممالک کو ایران کے ساتھ جوہری تعاون جاری رکھنے کی اجازت ہو گی۔
اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر خزانہ اسٹیون منوچن کے موقف کی تائید کی ہے جنہوں نے ایران پر پابندیوں میں چُھوٹ کی تجدید کا مطالبہ کیا تھا۔
اس سے قبل رواں ماہ جولائی میں امریکی قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے استثناء منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ بولٹن کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی جانب سے اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کی مقدار کی سطح بڑھانے کی کوششوں کے بعد سامنے آیا۔
بولٹن نے باور کرایا کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے 7 مختلف رعائتیں دی گئی تھیں جن کی تعداد کم ہو کر 5 ہو گئی۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں امریکا نے ایک بار پھر چُھوٹ پیش کی جس کے ذریعے برطانیہ، چین ، فرانس وار روس کو اجازت ہو گی کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی ممانعت کے شعبے میں ایران کے ساتھ مل کر کام جاری رکھ سکیں۔
اسی طرح ٹرمپ حکومت کی جانب سے جاری رعائتوں میں آراک، بوشہر اور فوردو میں جوہری تنصیبات کو شامل کیا گیا۔ اس کا مقصد مذکورہ تنصیبات کے لیے بین الاقوامی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔