.

ایران کے بحران کا کوئی فوجی حل قبول نہیں: جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے وزیر خارجہ ھائیکوس ماس نےکہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جاری بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنےپر یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کےبحران کا کوئی فوجی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔

ایک بیان میں جرمن وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کےمعاملے کو مزید الجھانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ جرمنی امریکا کے ایران کے خلاف کسی فوجی مشن میں شامل نہیں ہوگا۔

قبل ازیں جرمن وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا تھا کہ جرمنی آبنائےہرمز میں جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے امریکا کی قیادت میں کسی قسم آپریشن میں شامل نہیں ہوگا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ برلن ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کےلیے کوششیں کررہا ہے۔ جرمن خاتون وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکا کی قیادت میں کسی آپریشن میں شامل نہیں ہوگا۔

جرمنی میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے باضابطہ طور پر اپیل کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی آپریشن میں شامل ہوں۔

جرمن حکومت کی ترجمان اولریکہ دیمر نے برلن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ جرمنی کو امریکا کی طرف آبنائے ہرمز میں فوجی آپریشن کےحوالے سے پیش کی گئی تجاویز پر اعتراضات ہیں۔