کشمیر، بھارت کا ’داخلی معاملہ‘ ہے: بھارتی دفتر خارجہ

’’پاکستان سفارتی تعلقات محدود کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کا کہنا ہے کہ دستور کے آرٹیکل 370 سے متعلق کیا گیا فیصلہ نئی دہلی کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں مداخلت کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ پاکستان، نئی دہلی کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات محدود کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو یک طرفہ طور پر محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کے اس اقدام کا مقصد دنیا کے سامنے دو طرفہ تعلقات کی خطرناک تصویر پیش کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے فیصلوں کے جو جواز پیش کیے ہیں وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 اور اس کی ذیلی شق 35 اے کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے منسوخ کردیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کو نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اور پارلیمنٹ کے حالیہ فیصلوں سے جموں و کشمیر کو ترقی کے مواقع میسر آئیں گے جو اس سے قبل اس آئینی شق کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 370 سے متعلق کیا گیا فیصلہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں مداخلت کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

بیان کے مطابق یہ حیران کن بات نہیں کہ جموں و کشمیر سے متعلق کیے گئے حالیہ فیصلوں کو پاکستان میں منفی طور پر لیا جارہا ہے جو کشمیریوں میں پائی جانے والی بے چینی کو سرحد پار دہشت گردی کے جواز کے طور پر استعمال کرتا آیا ہے۔

درایں اثنا بھارت کی سپریم کورٹ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس این وی رامنا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے جمعرات کو درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل ایم ایل شرما نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان اس معاملے کو اقوامِ متحدہ میں لے جا سکتا ہے۔

اس پر جسٹس این وی رامنا نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا اقوامِ متحدہ بھارتی پارلیمان کو ترامیم منظور کرنے سے روک سکتی ہے؟ درخواست کی مختصر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت سے انکار کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں