ایرانی وزیرخارجہ کی سویڈن آمد پرپُرتشدد مظاہرے، متعدد افراد گرفتار
بدھ کے روز ایرانی وزیرخارجہ کے دورہ سویڈن کے موقع پر سول سوسائٹی کی طرف سے سخت احتجاج کیا گیا۔ پولیس اور مظاہرین کےدرمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ متعدد کو حراست میں لے لیا گیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے اسٹاک ہوم پہنچنے پربڑی تعداد میں لوگ ایران کے خلاف نعرے لگاتے سڑکوں پرنکل آئے۔ مظاہرین نے اسٹاک ہوم میں ایرانی وزیرخارجہ اور حکومتی نمائندوں کےدرمیان ہونے والے اجلاس کے مقام کی طرف جانے کی کوشش کی جس پر پولیس کو حرکت میں آنا پڑا۔
سویڈن ٹی وی 'ایس وی ٹی' کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشد جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ کم سے کم تین مظاہرین کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیاگیا ہے۔ پرتشدد مظاہروں کے بعد 62 افراد کو مظاہرے کے مقام سے منتشر کیا گیا۔ یہ مظاہرین دارالحکومت اسٹاک ہوم کے وسطی علاقے سولنا میں جمع تھے اور ایرانی وزیرخارجہ کی آمد کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔
It is just a shame for the government of #Sweden to shake hand with Rep of #Iran a brutal regime which Amnesty International has recorded 97 executions of people under the age of 18 by this regime between 1990 and 2018.#ban_Zarif #NoImpunity4Mullahs#Zarif_inte_välkommen pic.twitter.com/7dZZrkGaKA
— mostafa.m (@MostafaMe4) August 21, 2019
سماجی کارکنوں نے سویڈیش پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں۔ اسٹاکم ہوم پولیس کی ترجمان ایوا نیلسن نے کہا کہ لوگوں کو احتجاج کی اجازت دی گئی مگرجب انہوں نے پرامن احتجاج کی حدود کو پامال کرنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف پولیس کو حرکت میں آنا پڑا۔سویڈن کی اپوزیشن جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ نے بھی ایرانی وزیرخارجہ کی اسٹاک ہوم آمد کے خلاف احتجاج کے ساتھ جواد ظریف کا استقبال کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔