.

امریکا کا اسرائیل میں انتخابات سے قبل مشرقِ اوسط امن منصوبہ جاری نہ کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اسرائیل میں آیندہ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنے تاخیر کا شکار مجوزہ مشرقِ اوسط امن منصوبے کے سیاسی حصے کا ا علان نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ نے بدھ کوٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ ’’ہم نے امن منصوبے کے سیاسی حصے کو اسرائیل میں انتخابات سے قبل جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

اس اقدام کا بظاہر مقصد اسرائیل میں 17 ستمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز ہے۔ان انتخابات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔وہ قبل از یں اپریل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حکومت کی تشکیل کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

اس کے بعدصدر ٹرمپ کی مشرقِ اوسط کے لیے ٹیم نے امن منصوبے کے سیاسی حصے کا اعلان موخر کردیا تھا۔خود صدر ٹرمپ نے سوموار کو کہا تھا کہ مجوزہ امن منصوبے کا اسرائیلی انتخابات سے قبل اعلان کیا جاسکتا ہے۔

امریکا نے جون میں بحرین میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مجوزہ امن منصوبے کے اقتصادی حصے کا اعلان کیا تھا اورا س میں شریک ہونے والے دوسرے ممالک کے وزراء کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم خلیجی لیڈروں نے اس اقتصادی منصوبے پر دست خط نہیں کیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل سیاسی منصوبے کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔

اس کانفرنس میں مشرقِ اوسط کے لیے 50 ارب ڈالر کے اقتصادی منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس کے تحت فلسطین اور ہمسایہ عرب ریاستوں کی معیشتوں کی بہتری کے لیے ایک عالمی سرمایہ کاری فنڈ تشکیل دیا جائے گا۔اس کے علاوہ غربِ اردن اور غزہ کے درمیان پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک ٹرانسپورٹ راہداری تعمیر کی جائے گی۔