.

ادلب: جنگ بندی کے باوجود شامی حکومت کی بم باری، 6 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صوبے ادلب میں دو ہفتوں سے فائر بندی لاگو ہونے کے باوجود مزید 6 شہری جاں بحق ہو گئے۔ ان میں اکثر افراد شامی فوج کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی لپیٹ میں آ کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ بات شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے ہفتے کے روز بتائی۔

ادلب اور اس کے اطراف فائر بندی کے نفاذ کا آغاز اگست کے اواخر میں ہوا تھا۔ اس کا اعلان ماسکو نے کیا تھا اور بشار حکومت نے اس پر آمادگی کا اظہار کیا۔ تاہم المرصد کے مطابق اس فائر بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

بشار حکومت کی جانب سے جمعے کے روز ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں معرہ النعمان اور کفر نبل میں میزائل حملے کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں 5 شہری موت کی نیند سو گئے جن میں ایک بچی شامل ہے۔ ان کے علاوہ چھٹا شامی شہری ادلب کے مغربی دیہی علاقے میں ایک گاؤں پر روسی فضائی حملے میں جاں بحق ہوا۔

اس طرح ادلب صوبے میں فائر بندی کے نفاذ کے بعد سے جاں بحق ہونے والے شہریوں کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ان میں 8 افراد بشار کی فوج کی جانب سے میزائل اور توپ کے گولے برسانے کے سبب لقمہ اجل بنے۔ دو افراد نے روسی فضائی حملوں میں اپنی جان دی اور بشار کی فوج کے طیاروں کے حملوں میں کم از کم ایک شہری جاں بحق ہوا۔

اسی طرح المرصد نے مزید بتایا کہ بشار کی فوج نے ہفتے کے روز بھی ادلب کے جنوب، لاذقیہ کے شمال اور حماہ کے مغرب میں میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس دوران روسی طیاروں نے ادلب کے مغربی اور لاذقیہ کے شمال مشرقی دیہی علاقوں میں اپوزیشن گروپوں کے ٹھکانوں کو حملوں کا نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

جنگ بندی کے ابتدائی دس روز کے دوران فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر موقوف ہو گیا تھا۔ اسی طرح بشار کی فوج اور اپوزیشن گروپوں کے بیچ زمینی لڑائی نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی۔

رواں سال اپریل میں مذکورہ علاقے میں بشار کی فوج کی جانب سے روس کی سپورٹ سے شروع کی جانے والی جارحیت اور بم باری کے بعد سے یہ اپنی نوعیت کی دوسری جنگ بندی ہے۔ المرصد کے مطابق اس دوران کم از کم 980 شہری جاں بحق ہوئے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 4 لاکھ سے زیادہ افراد نے راہ فرار اختیار کی۔