فرانسیسی صدر کی امریکی اور ایرانی ہم منصب سے تناؤ میں کمی کے لیے ملاقات
فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے صدور سے الگ الگ ملاقات کررہے ہیں۔
فرانسیسی صدر آج سوموار کو ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کرنے والے تھے اور وہ کل منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر چودہ ستمبر کو ڈرون حملوں کو ایک ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا ہے۔امریکا نے ان حملوں کاالزام ایران پر عاید کیا ہے جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
امریکی صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں۔ ان کی ایرانی صدر حسن روحانی سے براہ راست ملاقات کا امکان کم ہی نظر آرہا ہے۔ انھوں نے ایرانی صدر سے اپنی ممکنہ ملاقات کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ ہم دیکھیں گے، کیا ہوتا ہے؟
ان سے صحافیوں نے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا وہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے؟ انھوں نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایرانی عہدے داروں سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ’’اتحاد برائے امید اور ہُرمز امن‘‘اقدام کا منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس میں عرب خلیجی ممالک کے مشترکہ تعاون کے ذریعے علاقائی امن پر زوردیا جائے گا۔