.

قلب تیونس اور النہضہ کے پارلیمانی انتخابات میں جیت کے دعوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں گذشتہ روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعت النہضہ اور اس کی حریف جماعت'قلب تیونس' نے اپنی اپنی جیت اور کامیابی کے دعوے کیے ہیں۔

تیونس کی النہضہ پارٹی کے ترجمان عماد الخمیری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ اتوار کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جماعت پہلے نمبر پر آگئی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں النہضہ پہلے نمبر پر آگئی جب کہ اس کی حریف جماعت قلب تیونس دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ایوان میں داخل ہوئی ہے۔

'سگما کونسائی' کے ذریعہ کروائے گئے سروے کے مطابق النہضہ نے 17.5 فیصد ووٹ حاصل کیے جب کہ اس کی حریف قلب تیونس کو 15.6 فیصد ووٹ ملے۔ ایک دوسری تنظیم'ایمرود' کے سروے کے مطابق النہضہ نے 18.29 فیصد حاصل کیے ہیں جب کہ قلب تیونس کے حصے میں 16.28 فیصد صد ووٹ آئے اور جو ایوان میں دوسری بڑی جماعت ہے۔

قلب تیونس کے سربراہ ، نبیل القروی نے اتوار کے روز ، قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کامیابی کی توقع ظاہر کی ہے۔ القروی اس وقت جیل میں ہیں اور انہوں نے جیل ہی سے کامیابی کے اور فتح کے دعوے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں قید، تمام تر نا انصافیوں اور فساد کے باوجود پہلے صدارتی انتخابات میں اب اور پارلیمانی انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں قلب تیونس اور النہضہ کے درمیان سخت مقابلہ رہا۔ منگل کی شام تک الیکشن کمیشن کی طرف سے حتمی نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔

تین ہفتے پیشتر تیونس میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد گذشتہ روز تیونس پارلیمنٹ کی 217 نشستوں کے لیے 70 لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ مجموعی طورپر 217 نشستوں کے لیے 15 ہزار امیدواروں میں مقابلہ تھا۔