ترکی اور اخوان جرمنی میں جمہوریت کے لیے خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

مذہب اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون نے نہ صرف عرب ممالک بلکہ مغربی ملکوں میں بھی اپنے جال بچھانے کا سلسلہ جاری رکھا اور طویل عرصے سے اخوان کے حامی عناصر مغربی اور یورپی ملکوں میں سرگرم رہے۔ سنہ 1960ء میں ایک اخوان لیڈر سعید رمضان نے جرمنی میں اخوان المسلمون کی شاخ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ سعید رمضان اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء کے مقربین میں شامل تھے۔ بعد میں وہ ان کے داماد بنے اور جرمنی میں میونخ اسلامک سنٹر قائم کیا۔ سعید رمضان سنہ 1954 میں اخوان المسلمون کے خلاف مرحوم صدر جمال عبد الناصر کی مہم سے بچنے کے لئے مصر چھوڑنے کے بعد جنیوا چلے گئے۔ میونخ میں عرب طلباء نے1958ء ایک نئی مسجد بنانا چاہی تو انہوں نے ان سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد سعید رمضان میونخ چلے گئے۔ بون میں دہشت گردی اور انٹلیجنس کے ایک محقق کے مطابق سعید رمضان نے میونخ میں قیام کے بعد یورپ میں اخوان المسلمون کے نیٹ ورک کی بنیاد رکھنا شروع کردی اور جماعت کو نیٹ ورک کو دوسرے ملکوں میں پھیلانے لگے۔

انٹیلی اور دہشت گردی کے محقق جاسم محمد نے European Eye on Redicalizition نامی ویب سائیٹ پراپنے مضمون میں یورپی ملکوں بالخصوص جرمنی میں اخوان المسلمون کے نیٹ ورک پر تفصیل سے رشنی ڈالی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ میونخ میں اسلامک سنٹر دوسرے گروہوں کی طرف سے چھوڑا گیا خلا پر کر سکتا ہے۔ یہ مرکز مسلمانوں کو راغب کرنے کے لیے سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہےجبکہ حکام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کی سرگرمیاں ملکی ثقافت اور قوانین کے منافی نہیں ہیں بلکہ یہ آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کرتا ہے۔

'جرمن اسلامک کمیونٹی' یا ' آئی سی جی' ملک کی قدیم اور سب سے بڑی اخوان المسلمین تنظیموں میں سے ایک ہے۔ جرمنی میں اس کے 1300ارکان ہیں۔یہ سب اسلامی خلافت کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ آئی سی جی یورپ میں اسلامی تنظیموں کی یونین کے ایک رکن کی حیثیت سے اخوان کے دیگر اہم گروہوں میں نمایاں تنظیم سمجھی جاتی ہے۔

جرمنی خاص طور پر داعش کے عروج کے بعد سے اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ اخوان المسلمون کے عروج کا عروج اگرچہ داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی طرح خطرناک نہیں مگر جرمن انٹیلی جنس جانتے ہیں کہ جرمنی میں اخوان المسلمون کی غیرمعمولی سرگرمیاں اس معاشرے کے لیے خطرناک ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمون کو جرمنی میں خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر'آئی سی جی 'کے اخوان رہ نما اعتدال پسندی کا زبانی کلامی مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ ساتھ ہی وہ جرمنی کو ایک اعتدال پسند "اسلامی ریاست" بنانے کی کوششوں کی خفیہ حمایت کرتےہیں

ایک لیک ہونے والی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی میں اخوان کو موجودہ ترک حکومت کی طرف سے مالی اعانت مل رہی ہے۔ اس رپورٹ کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات تھے کیونکہ جرمن وزارت داخلہ کی طرف سے اس سوال کا ایک خفیہ جواب دیا گیا جو بائیں بازو کی جماعت ڈی لینکے کے ذریعہ جو مشرقی جرمن اسٹالن ظلم کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ جماعت ترک حکومت کے مخالف کرد گروپ 'پی کے کے' جسے ترکی اور بعض دوسرے ملکوں نے دہشت گرد قرار دیا ہے سے دوستانہ تعلقات ہیں۔

البتہ برلن کو یقین ہے ملک میں اسلامائیزیشن کی سرگرمیوں میں بیرونی ہاتھ کار فرما ہے۔ کچھ عرصہ پیشتر جب سابق مصری صدر اور اخوان لیڈر محمد مرسی ملک کی ایک جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تو جرمنی کی 300 سے زیادہ مساجد کے آئمہ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔ ان میں سے بیشتر مساجد 'آئی سی جی' سے منسلک ہیں۔

جرمنی کا خیال ہے کہ انقرہ 'ترک اسلامی یونین برائے مذہبی امور' (DITIB) کے ذریعے آئی سی جی کو فنڈ فراہم کررہا ہے۔ فیڈرل آفس فار پروٹیکشن آف آف کانسٹیٹیوشن (BfV) نے اسلامی معاشروں میں اعتدال پسندی کا دعویٰ کرنے والے افراد کے عقبی راستے سے داخل ہونے کی حقیقت بے نقاب کی ہے۔ جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل (زیڈ ایم ڈی) کو کنٹرول کرنے کے لیے ترک اسلامی یونین کے مذہبی امور اس کی مالی مدد کرتا ہے۔ انہوں نے ترک اسلامک کونسل کو کنٹرول کرنے کے لیے کولونیا میں ایک مرکز قائم کر رکھا ہے۔

جرمنی میں 900 مساجد اور 30 لاکھ ترک مسلمان مقیم ہیں۔ ان میں سے بیشتر مساجد کا انتظام ترکی کی اسلامی یونین برائے مذہبی امور کے ہاتھ میں ہے۔ ان میں سے 10 فی صد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ترکی کی انٹلیجنس کے قریب سے نگرانی کام کررہی ہیں۔

جرمنی میں ایک اور ادارہ توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ادارہ 'سنٹر برائے ثقافتی مکالمہ' کہلاتا ہے جوسنہ2004ء میں برلن میں قائم ہوا تھا۔ لگتا ہے کہ اس میں اخوان کے ہمدردوں کا غلبہ ہے۔

اس مرکز کے پیش نظر جرمن اور عربی دونوں زبان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیمات کی تبلیغ ہے۔

یہ مرکز بڑھتی ہوئی انتہا پسندی جسےمعاشرتی اتحاد کو خطرہ سمجھا جاتا ہے سے بچنے کے لیے مقامی طور پر تربیت یافتہ اماموں کی تیاری کے لیے کوشاں ہے

جرمن حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے بھی مساجد کے آئمہ کے لیے جرمن زبان سمجھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ان کا اصرار ہےکہ اسلامی مبلغین کو لازمی طور پر جرمن زبان میں عبور حاصل کرنا چاہیے اور ریاست سے منظورشدہ یونیورسٹیوں فارغ التحصیل ہونا چاہیے۔

"ڈوئچے ویلے" کی طرف سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کی داخلی انٹلی جنس ایجنسی نے حال ہی میں اس بڑھتی ہوئی تشویش کی وجہ سے اخوان کی سرگرمیوں پر اپنی نگرانی تیز کردی ہے۔ کیونکہ قانونی طور پر رجسٹرڈ اور عدم تشدد پسند گروہ جرمنی میں جمہوریت کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں