ابتدائی معاہدے کے باوجود ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی عوام کا امریکی فریق پر عدم اعتماد اس حد تک گہرا ہے کہ امریکہ کو ایرانیوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا پابند ہے اور ایسا نہ کرنے پر تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران سلطنت عمان اور دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ ایک مخصوص مدت کے لیے اور امریکہ کے وعدوں کے مطابق آبنائے سے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی خود مختاری اور حیثیت مکمل طور پر محفوظ ہے اور ہم جو خدمات فراہم کرتے ہیں، ان کے عوض بعد میں فیس وصول کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ گزرگاہ ایران کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے گذشتہ چند ماہ کے دوران جو اقدامات کیے، وہ بین الاقوامی قانون کے عین مطابق تھے اور ان کا مقصد ایران کی خود مختاری اور قومی سلامتی کا تحفظ تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ایک ساحلی ریاست کے طور پر عمان کے تعاون سے ،،، آبنائے میں جہازوں کا محفوظ گزر یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
بقائی نے واضح کیا کہ تہران نے مفاہمت کی یاد داشت کے متن میں جوہری فائل کی تفصیلات کے بارے میں کوئی بحث نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھوتا طے پایا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد 60 دنوں کی مدت کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان پابندیوں کے خاتمے کے بدلے جوہری فائل پر بات چیت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذمہ داریاں باہمی ہیں اور کوئی یہ توقع نہیں کر سکتا کہ ایران اپنے وعدے پورے کرے جبکہ دوسرا فریق ایسا کرنے سے گریز کرے۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ معاہدے کے تحت واشنگٹن بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو جاری کرنے اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہے۔ بقائی نے کہا کہ اثاثوں کی رہائی اور نقصانات کا معاوضہ جمعہ کو دستخط کیے جانے والے معاہدے کے دو بنیادی نکات ہیں اور امریکی فریق نے ان دونوں محاذوں پر اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
لبنان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔ مفاہمت کی یاد داشت کے مسودے میں لبنان کا 3 بار ذکر کیا گیا ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور لبنان کی خود مختاری و علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔
بقائی نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنیوا میں اگلے جمعہ کو طے شدہ معاہدے پر دستخط سے قبل تہران کے ایجنڈے میں خطے کے ممالک کے سفارتی دورے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے کل شام سب سے پہلے اس یاد داشت کا اعلان کیا تھا، نے اس بات کی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز بغیر کسی پابندی یا فیس کے کھول دی جائے گی۔ بدلے میں ان کے نائب جے ڈی وینس نے بھی آج اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک توقع کرتا ہے کہ یہ تزویراتی گزرگاہ طویل مدت تک بغیر فیس کے کھلی رہے گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مبصرین کو خدشہ ہے کہ ایرانی اور امریکی فریقوں کے درمیان کچھ اختلافات "ٹائم بم" ثابت ہو سکتے ہیں جو جنگ بندی کی کئی مہینوں کی سفارتی کوششوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ ایک با خبر سفارت کار کے مطابق یہ بیانات ایسے وقت میں بھی آئے ہیں جب توقع ہے کہ دونوں فریق جنیوا میں جمعہ کے روز معاہدے پر با ضابطہ دستخط کی تیاری کے لیے اس ہفتے دوحہ میں بالواسطہ اجلاس منعقد کریں گے۔
-
ایرانی امریکی معاہدے کے کو درپیش 5 خطرات... پہلا خطرہ نیتن یاہو کے بم ہیں
ایران کے ساتھ امن معاہدے کے دائرہ کار تک پہنچنے کے بعد، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ...
بين الاقوامى -
خلیجی،عرب ریاستوں کاامریکہ-ایران معاہدےکا خیرمقدم،جنگ کےخاتمےاورہرمزکےدوبارہ کھلنےکی امید
خلیجی و دیگر ممالک کی طرف سے سفارت کاری کی تعریف اور تعمیری مذاکرات پر زور
مشرق وسطی -
بحرین : ایران کے حملوں کی حمایت پر 12 ملزمان کو 10 سال قید کی سزا
انہوں نے ممنوعہ حساس معلومات حاصل کیں اور جھوٹی خبریں پھیلائیں
مشرق وسطی