لبنان : جنگل میں لگی آگ قدرتی حسن سے مالا مال جبل الشوف تک پھیل گئی !
لبنان کے ضلع الشوف میں لگی آگ الشوف پہاڑ تک پھیل گئی ہے اور اس ضلع میں شہریوں سے ان کے مکان خالی کرائے جارہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق لبنان کے جنوبی وسطی علاقے میں واقع جنگل میں اچانک درجہ حرارت بڑھ جانے سے یہ آگ لگی ہے۔لبنان کے محکمہ شہری دفاع ، صیدا کے محکمہ آگ (فائر ڈیپارٹمنٹ) اور لبنانی فوج نے سوموار کی صبح اس آگ پر قابو پا لیا تھا۔تاہم رات کو یہ دوبارہ بھڑک اٹھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پہاڑی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
درختوں سے بھرے الشوف پہاڑ پر لگی آگ کی ویڈیو ز لبنانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں اور انھوں نے حکومت سے آگ پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے۔
This can’t be happening. My heart hurts so much. #LebanonIsBurning #لبنان_يحترق pic.twitter.com/fWsqyJYJLE
— Eslam (ر) (@jnoubiyi) October 15, 2019
الشوف کا علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور یہ سیاحت کے لیے ایک مقبول عام مقام ہے۔لبنان کے محکمہ ماحول کے ایک مطالعے کے مطابق ملک کے 34 فی صد علاقے میں اس سال آگ لگنے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ماحولیاتی عوامل کی بنا پر لبنان کو گذشتہ کئی سال کے بعد آتش زدگی کے زیادہ واقعات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کی حکومت نے پہاڑ ی جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے ہمسایہ ممالک سے امداد طلب کی ہے اور کہا ہے کہ آتش زدگی کے اس واقعے کی تحقیقات کی جائے گی۔
سعد الحریری نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے یورپیوں سے امداد کے لیے رابطہ کیا ہے ۔اس کے بعد قبرص نے منگل کی صبح لبنان میں آگ پر قابو پانے کے لیے اپنے ہیلی کاپٹر بھیجے ہیں اور وہ مشرف کے علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
لبنانی وزیر داخلہ ریا الحسن کے مطابق یونان نے ہماری مدد کے لیے درخواست پر دو طیارے بھیجنے کا اعلان کیا ہے اور اردن نے بھی امدادی کاموں میں ہاتھ بٹانے کی ہامی بھری ہے۔
لبنان کی سرکاری خبررساں ایجنسی (این این این ) نے اطلاع دی ہے کہ فوج ہیلی کاپٹروں اور قبرص کے طیاروں کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے لیکن گہرے دھویں اور ہائی وولٹیج تاروں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں بعض اوقات رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں۔
الطائرتان القبرصيتان خلال عملية اخماد الحريق في تلال المشرف #لبنان #قبرص @saadhariri @rayaelhassan @youssefenianos pic.twitter.com/tECNLV4pE6
— Elias Bou Saab (@EliasBouSaab) October 14, 2019
ایجنسی نے مزید بتایا ہے کہ لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کا عملہ بھی امدادی کام میں ہاتھ بٹا رہا ہے۔