انقرہ :ایوان نمایندگان میں قرارداد کی منظوری پرترک وزارتِ خارجہ میں امریکی سفیر کی طلبی
انقرہ میں متعیّن امریکی سفیر کوبدھ کے روز ترک وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے اور ان سے ایوان نمایندگان میں ترکی مخالف دو قرار دادوں کی منظوری پر احتجاج کیا گیا ہے۔ان میں ایک صدی قبل پہلی عالمی جنگ میں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیا گیا ہے اور ترکی کے خلاف شام میں چڑھائی پر پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے امریکی سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کی وزارتِ خارجہ میں طلبی کی تصدیق کی ہے۔
امریکی ایوان نمایندگان نے منگل کو کثرت رائے سے منظور کردہ ایک قرار داد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکی اور ترک عہدے داروں پر شمالی شام میں فوجی کارروائی پر پابندیاں اور دوسری قدغنیں عاید کردیں۔
ایوان نمایندگان نے ایک صدی قبل پہلی عالمی جنگ میں آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دینے کی قرارداد بھی کثرت رائے سے منظورکی ہے۔اس کی منظوری کے بعد امریکا اور ترکی کے درمیان تناؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ترکی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پہلی عالمی جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ کی فوج کے ساتھ جنگ میں بہت سے آرمینیائی باشندے ہلاک ہوگئے تھے لیکن وہ انھیں ایسے منظم انداز میں قتل کرنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے جنھیں مغرب کی اصطلاح میں نسل کشی قرار دیا جا سکے۔ مغربی ممالک ایک عرصے سے آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔